کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10422
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا فَمَا رُئِيَ يَقُصُّ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب رضی اللہ عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10422
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18214»
حدیث نمبر: 10423
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو قصے بیان نہیں کرتا، مگر امیر،یا ما مور، یا ریاکار۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10423
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3753 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6661»
حدیث نمبر: 10424
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مذہب، حکومت کی ذمہ داری ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں دیکھا گیا، ان زمانوں میں خطیب، امام، مفتی، قاضی اور والی کا تقرر یا اس کی معزولی حاکم وقت کی طرف سے ہوتی تھی۔ جہاں حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی، وہاں متعصب فرقہ وارانہ ماحول ہو گا اور اسلام کے محاسن منظرِ عام پر نہیں آسکیں گے۔
تکبر اور تکلف کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو امیر کے حکم کے بغیر تقاریر شروع کر دیتاہے، اس کا مقصد ریاکارییا تکبر یا ریاست کا حصول ہوتا ہے، اگر اس کا مقصد اسلام کی تبلیغ ہو تو وہ حاکم سے اجازت لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10424
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24494»
حدیث نمبر: 10425
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10425
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل بقية بن الوليد الحمصي، فھو مدلس تدليس التسوية، أخرجه الطبراني في الكبير : 6656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15806»
حدیث نمبر: 10426
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَيُّ مَجْلِسٍ تَعْنِي قَالَ كَانَ قَاصًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10426
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لجھالة كردوس بن قيس، أخرجه الدارمي: 2/ 319 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15995»
حدیث نمبر: 10427
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔
وضاحت:
فوائد: … مؤطا امام مالک (۱/ ۱۶۵) میں مرفوع حدیثیوں ہے: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قُوْلُوا: اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) … تم اس طرح کہو: اے اللہ! تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، آپ کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے رحمت کی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، اور تو برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بیشک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۹، صحیح مسلم: ۴۰۷، واللفظ للامام مالک)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10427
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الاثر مقطوع ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16705»
حدیث نمبر: 10428
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَاصٍّ يَقُصُّ فَأَمْسَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُصَّ فَلَانْ أَقْعُدَ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے، وہ قصہ گوئی کر رہا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر رک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قصہ گوئی کرو، اگر میں نماز فجر سے طلوع آفتا ب تک ایسی مجلس میں بیٹھوں تو یہ مجھے چار گردنیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا، اگر میں عصر سے غروب ِ آفتاب تک بیٹھوں تو یہ عمل بھی مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10428
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل ابي الجعد، أخرجه الطبراني في الكبير : 8013 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22609»