کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
حدیث نمبر: 10316
عَنْ عُتَيٍّ قَالَ رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِيهِ أَيْ بَنِيَّ إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَمَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ وَمَعَهُمُ الْفُؤُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ فَقَالُوا لَهُمْ يَا بَنِي آدَمَ مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ قَالُوا أَبُونَا مَرِيضٌ قَالُوا فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ قَالُوا لَهُمْ ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ قَضَاءُ أَبِيكُمْ فَجَاءُوا فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ فَقَالَ إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنِّي إِنَّمَا أُوتِيتُ مِنْ قِبَلِكِ خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ ثُمَّ قَالُوا يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عُتَیّ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ دیکھا اور جب اس کے بارے پوچھا تو لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: بیشک جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا توا نھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں جنت کے پھل چاہتا ہوں، پس وہ یہ پھل تلاش کرنے کے لیے نکل پڑے، آگے سے ان کو فرشتے ملے، ان کے پاس کفن، حنوط خوشبو، کلہاڑے، بیلچے اور ٹوکرے تھے، انھوں نے اِن سے پوچھا: اے بنو آدم! تمہارا کیا ارادہ ہے، تم کون سی چیز تلاش کر رہے ہو اور تم کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہمارے ابو جان بیمار ہیں اور جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں، ان فرشتوں نے کہا: چلو واپس چلو، تمہارے باپ کی وفات کا وقت آ چکا ہے، پس جب وہ پہنچے اور سیدہ حوائ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو پہنچان لیا تو وہ آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں، لیکن آدم علیہ السلام نے کہا: پرے ہٹ جا، پہلے بھی تیری وجہ سے مجھے مصیبت میں مبتلا کیا گیا، ہٹ جا میرے اور میرے ربّ کے فرشتوں کے درمیان سے، پس انھوں نے ان کی روح قبض کی، ان کو غسل دیا، تکفین کی، خوشبو لگائی، پھر گڑھا کھودا اور لحد بنائی اور ان کی نماز جنازہ ادا کی، پھر وہ قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں رکھ کر کچی اینٹیں لگائیں، پھر وہ قبر سے باہر آ گئے اور ان پر مٹی ڈال دی اور کہا: آدم کے بیٹو! یہ تمہارا طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10316
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عتي بن ضمرة السعدي تفرد به، ومثله يضعف فيما تفرد به، وقد اختلف في رفعه ووقفه، أخرجه الحاكم: 2/ 545، والطيالسي: 549 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21560»