کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 10307
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت بدبودار نہ ہوتا اور کھانے میں فساد نہ آتا اور اگر سیدہ حوائ رحمۃ اللہ علیہ نہ ہوتیں تو کوئی خاتون اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
وضاحت:
فوائد: … بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔
جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حوائ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حوائ رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 175 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8019»
حدیث نمبر: 10308
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ قَالَ وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي)) الحديث
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، یہ سفارش والی طویل حدیث ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں پر زمانہ طویل ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: چلو، ابو البشر کی طرف چلتے ہیں، تاکہ وہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کریں اور وہ ہمارا حساب کتاب شروع کرے، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے: اے آدم! آپ وہ ہستی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو جنت میںٹھہرایا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کروایا، پس آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش تو کر دیں، تا کہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، پس وہ جواب دیں گے: میں اس سفارش کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری خطا کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اس خطا کو معاف کر دیا ہے، لیکن انبیائے کرام پر اللہ کا خوف اور خشیت ِ الہی کی ایسی فکر ہو گی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دینے سے خطرہ محسوس کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10308
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرج نحو ھذا الترمذي: 3148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»
حدیث نمبر: 10309
وَمِمَّا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ أَيْضًا قَالَ ((فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَأَنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،یہ شفاعت سے متعلقہ طویل حدیث ہیں، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنے غصے میں آئے گا، اور اس نے مجھے ایک درخت سے منع کیا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کر دی تھی، ہائے میری جان، میری جان، میری جان۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10309
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3340، 3361،ومسلم: 195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9621»
حدیث نمبر: 10310
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلُ قَالَ ((آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ)) قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ قَالَ ((نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ يَا آدَمُ قُبُلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! انبیاء میں سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ نبی تھے، ان سے کلام کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی اور ان کو آمنے سامنے کہا: اے آدم۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع سے متعلقہ درج دو احادیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/ ۲۶۲، معجم کبیر لطبرانی: ۸/ ۱۳۹، صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (صحیح ابن حبان: ۲۰۸۵، حاکم: ۲/ ۲۶۲، صحیحہ:۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10310
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد، أخرجه الطبراني في الكبير : 8771، وابن حبان: 6190 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22644»
حدیث نمبر: 10311
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا)) زَادَ فِي أُخْرَى وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے ، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن میں ان کو اس سے نکالا گیا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا اور اس دن کو ان کو وفات دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10653»