کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
حدیث نمبر: 10301
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ عَامًا قَالَ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا احْتَضَرَ آدَمُ وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ قَالَ إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ عَامًا فَقِيلَ إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ فَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ)) زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَأَتَّمَهَا لِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ وَأَتَّمَهَا لِآدَمَ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَنَسِیَ َآدَمُ فَأَکَلَ مِنَ الشَّجَرَۃِ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَخَطِأَ آدَمُ وَخَطِأَتْ ذُرِّیَّتُہُ)) … پس آدم علیہ السلام نے انکار کیا اور اس وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، آدم علیہ السلام نے بھول کر درخت کا پھل کھالیا، پس ان کی اولاد بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام سے غلطی ہو گئی، اس وجہ سے ان کی اولادبھی غلطی کرنے لگ گئی۔
چونکہیہ معاہدہ عالم ارواح میں ہوا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ آدم علیہ السلام کو یاد نہ ہو، یا وہ بھول گئے ہوں، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھولنا، انکار کرنا اور خطا کرنا انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے، مگر وہ جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے۔
چونکہیہ معاہدہ عالم ارواح میں ہوا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ آدم علیہ السلام کو یاد نہ ہو، یا وہ بھول گئے ہوں، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھولنا، انکار کرنا اور خطا کرنا انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے، مگر وہ جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے۔