کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ حوأ رحمتہ اللہ علیہ کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10300
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلْعِ تُكْسِرْهَا فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اور اگر تو پسلی کوسیدھا کرنا چاہے گا تو اس کو توڑ دے گا، پس تو اس کے ساتھ مداہنت اختیار کر، تب وہ تیرے ساتھ زندگی گزارتی رہے گی۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔
یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہٰذا خاوند کو اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ بعض احادیث میں عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن رہتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین
میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 275، والبزار: 1476، وابن حبان: 4178، والبزار: 1476 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20353»