حدیث نمبر: 10249
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سَكَنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون میں آتے۔
حدیث نمبر: 10250
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ} إِلَى {رِيحٍ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الأحقاف: 24]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)
وضاحت:
فوائد: … یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)
حدیث نمبر: 10251
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے فکر ہوتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
حدیث نمبر: 10252
عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ النَّاسُ مُجْدَبِينَ فَيَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ فَقِيلَ لَهُ وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 10253
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 10254
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ قِيلَ لَهُ أَتَأْكُلُ مِنْهُ وَأَنْتَ صَائِمٌ فَقَالَ إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذاتی اجتہاد ہے، اولے کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10255
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسم سرما، مؤمن کے لیے بہار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) … سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۸۱، بیہقی: ۴/ ۴۹۶، صحیحہ: ۱۹۲۲) حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس کا کوئی تصور نہیں ہوتا، ایسے میںمسلمان کو مالِ غنیمت اکٹھا کر لینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 10256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔