کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
حدیث نمبر: 10241
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ أَوْ قَالَ وَقْرٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الشَّيْخُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضِّحْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعد کہتے ہیں: میں حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ کا گزر ہوا، ان کے کانوں میں بہرا پن تھا، جب حمید نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ متوجہ ہوئے، اِدھر حمید نے کہا: میرے بھتیجے! میرے اور اپنے درمیان ان کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے، پس وہ بہترین انداز میں بولتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا احساس اور اس کے بارے میں شعور ہے، پتھروں کا اللہ کے خوف کی وجہ سے لڑھک پڑنا، موسی علیہ السلام نے جس پتھر پر کپڑے رکھے تھے، اس کا دوڑ پڑنا اور موسی علیہ السلام کا اس کو مارنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے تو تنے کا رونا، وغیرہ۔ یہی معاملہ بادلوں کا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَّاتَفْقَہُوْنَتَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہٗکَانَحَلِیْمًا غَفُوْرًا۔} … ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10241
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 5220 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24086»
حدیث نمبر: 10242
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو فرماتے: اے اللہ! نہ ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک کر اور نہ عذاب کے ساتھ ہمیں تباہ کر، اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْیُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖوَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳) یعنی اللہ تعالیٰ بجلی کے ذریعے جس کو چاہتا ہے، ہلاک کر ڈالتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10242
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولجھالة حال ابي مطر، أخرجه الترمذي: 3450 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5763»
حدیث نمبر: 10243
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ اشیاء کے بارے میں سوال کریں گے، … … ، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا: انھوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کڑک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو بادلوں کا نظام سپرد کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میںآگ کی ایک تلوار ہوتی ہے، وہ اس کے ذریعے بادلوں کو ڈانٹتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جو آواز سنتے ہیں،یہ کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة الرعد، فقد تفرد بھا بُكير بن شھاب، ھو لم يرو عنه سوي اثنين، وقال ابو حاتم: شيخ، وقال الذھبي في الميزان : عراقي صدوق، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
حدیث نمبر: 10244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگرمیرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، دن کو سورج نکال دوں گا اور میں ان کو گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہو گی کہ دن کے معمولات بھی متاثر نہ ہوں اور بارش بھی ہو جائے اور وہ بھی ایسے پرسکون انداز میں گرج کی کوئی آواز سنائی نہ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10244
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعيف، وسُمير بن نھار جھّله الدارقطني، أخرجه الطيالسي: 2586، والبزار: 664، والحاكم: 4/ 256 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8693»
حدیث نمبر: 10245
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَتَعَوَّذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3727 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9627»
حدیث نمبر: 10246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّيحِ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5097 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7619»
حدیث نمبر: 10247
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔
اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14431»
حدیث نمبر: 10248
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔
وضاحت:
فوائد: … ہوا کے اندر خیر بھی ہو سکتی ہے اور شرّ بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرّ کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جب شرّ کا باعث بن سکنے والی چیز وجود پکڑے تو اللہ تعالیٰ کی مراقبت کی تیاری کی جائے اور اس کی طرف پناہ پکڑی جائے، اختلاف ِ حالات و ظروف سے بندے کو متاثر ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12648»