کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10223
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَتَعَجَّبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ فَقَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ قَالَ نَعَمْ الْحَدِيدُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمْ النَّارُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ قَالَ نَعَمْ الْمَاءُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ قَالَ نَعَمْ الرِّيحُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ قَالَ نَعَمْ ابْنُ آدَمَ يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تووہ ڈانواڈول ہونے لگی، پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر گاڑا، سو وہ قرار پکڑ گئی، فرشتوں کو پہاڑوں کی تخلیق سے بڑا تعجب ہوا، پس انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں، وہ لوہا ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ آگ ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز آگ سے سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ پانی ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ ہوا ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز ہوا سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آدم کا وہ بیٹا ہے، جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے اور اس کو بائیں ہاتھ سے چھپاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10223
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سليمان بن ابي سليمان ، قال ابن معين: لا اعرفه، أخرجه الترمذي: 3369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12278»
حدیث نمبر: 10224
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ زمانے کو گالی دیتا ہے، جبکہ میں زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10224
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4826، 7491، ومسلم: 2246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7244»
حدیث نمبر: 10225
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ الدَّهْرَ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي لِي أُجَدِّدُهَا وَأُبْلِيهَا وَآتِي بِمُلُوكٍ بَعْدَ مُلُوكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمانے کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک زمانہ یعنی دن اور راتیں میرے لیے ہیں، میں ان میں جدت پیدا کرتا ہوں اور ان کو بوسیدہ کرتا ہوں اور میں بادشاہوں کے بعد بادشاہوں کو لاتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۱۳۷) میں ان دو احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10442»