کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 10215
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا)) قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((سَمَاءٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ثُمَّ قَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الْعَرْشُ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) ثُمَّ قَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا تَحْتَكُمْ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((أَرْضٌ أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((أَرْضٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ ثُمَّ قَالَ ((وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْ دَلَّيْتُمْ أَحَدَكُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ لَهَبَطَ ثُمَّ قَرَأَ {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدلی ہے اور زمین کو سیراب کرنے والی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ان بندوں کی طرف چلائے جا رہا ہے، جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کو پکارتے ہیں، اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان ہے، یہ ایک موج ہے، جس کو روک دیا گیا ہے اور محفوظ چھت ہے، کیا تم جانتے ہوں کہ اس کے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور آسمان ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس آسمان اور اُس آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات آسمانوں کو شمار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرش ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عرش اور ساتویں آسمان کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سالوں کی مسافت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین ہے، اچھا کیا تمہیں اس چیز کا علم ہے کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس زمین سے اُس زمین تک کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات زمینیں شمار کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم ساتویں زمین تک رسی لٹکاؤ تو وہ ساتویں زمین سے جا لگے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی، اور ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (سورۂ حدید: ۳)
وضاحت:
فوائد: … آسمانِ دنیا کا نام رَقِیْع ہے، ایک قول کے مطابق اس کا اطلاق ہر آسمان پر بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10216
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ ((خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا او ر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے والے دن کو مٹی، اتوار کو پہاڑ، سوموار کو درخت، منگل کو مکروہ چیزیں، بدھ کو نور، جمعرات کو چوپائے پیدا کئے اور آدم علیہ السلام ،جو کہ آخری مخلوق تھے، کو جمعہ کے روز بعد از وقت ِ عصر جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا،یہ گھڑی عصر سے رات (غروبِ آفتاب) تک کے وقت کے مابین ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس نے ایسے کیا اور جو اس ترتیب کی حکمت کو جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 10217
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ قَالَ ((صَدَقَ)) قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ ((اللَّهُ)) قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ ((اللَّهُ)) قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ ((اللَّهُ)) قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا، اس لیےیہ بات ہمیں بڑی پسند تھی کہ کوئی عقلمند دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا، اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: اچھایہ بتائیں کہ کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے۔ اس نے کہا: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: کس نے ان پہاڑوں کو گاڑھا اور ان میں کئی خزانے ودیعت رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم، جس نے آسمان پیدا کیا، زمین پیدا کی اور پہاڑ پیدا کیے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 10218
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جبکہ وہ زمین کے بارے میں کوئی جھگڑا کر رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی ایک بالشت کے بقدر زمین ظلم سے اپنے قبضہ میں لے لی، اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْمًا } … اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱۲)
معلوم ہوا کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں۔
قدیم لوگوں نے روئے زمین کو سات حصوںپر تقسیم کیا تھا، ہر حصے کو اقلیم کہتے تھے، بعض نے سات زمینوں سے یہ ہفت اقلیم مراد لیے ہیں، بعد میں ان کو سات براعظم کہا گیا،یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں: (۱)قرآن و حدیث میں اکثر و بیشتر السموات کے مقابلے میں لفظ الارض مستعمل ہوا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین دراصل ایک ٹکڑا ہی ہے۔ (۲) زمین ہتھیالینے والے کو سات زمینوں کی مٹی کھود کر اس کا طوق پہنایا جائے گا، اور اس زمین میں ساتوں زمینیں موجود ہیں۔
اگر سات زمینوں سے مراد سات زمینیں ہی لیں کہ وہ آسمانوں کی طرح الگ الگ ہیں تو ان میں سے ایک زمین وہ ہے، جس پر ہم رہ رہیں ہیں، پھر باقی چھ زمینیں کہاں ہیں، نیز ان پر کون سی مخلوق رہتی ہے، ان سوالات کو اللہ تعالیٰ کے سپر کیا جائے گا۔
معلوم ہوا کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں۔
قدیم لوگوں نے روئے زمین کو سات حصوںپر تقسیم کیا تھا، ہر حصے کو اقلیم کہتے تھے، بعض نے سات زمینوں سے یہ ہفت اقلیم مراد لیے ہیں، بعد میں ان کو سات براعظم کہا گیا،یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں: (۱)قرآن و حدیث میں اکثر و بیشتر السموات کے مقابلے میں لفظ الارض مستعمل ہوا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین دراصل ایک ٹکڑا ہی ہے۔ (۲) زمین ہتھیالینے والے کو سات زمینوں کی مٹی کھود کر اس کا طوق پہنایا جائے گا، اور اس زمین میں ساتوں زمینیں موجود ہیں۔
اگر سات زمینوں سے مراد سات زمینیں ہی لیں کہ وہ آسمانوں کی طرح الگ الگ ہیں تو ان میں سے ایک زمین وہ ہے، جس پر ہم رہ رہیں ہیں، پھر باقی چھ زمینیں کہاں ہیں، نیز ان پر کون سی مخلوق رہتی ہے، ان سوالات کو اللہ تعالیٰ کے سپر کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10219
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَيْسَ لَهُ طُوِّقَهُ إِلَى السَّابِعَةِ مِنَ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے زمین کا وہ حصہ ہتھیا لیا، جو اس کا نہیں ہے تو اس کو قیامت کے دن ساتویں زمین تک طوق پہنایا جائے گا ، اور جو آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے کی زمین ہتھیا لینے والے کے حق میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 10220
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ قَالَ ((ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جس کو آدمی اپنے بھائی کے حق سے ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن زمین کی تہہ تک اس حصے کا طوق اس آدمی کو ڈالا جائے گا اور ایک کنکری کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، اور زمین کی تہہ کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10221
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ الْإِنْسَانَ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ فَيَقُولُ اللَّهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ فَيَقُولُ اللَّهُ حَتَّى يَقُولُ مَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے پاس آ کرکہتا ہے: کس نے آسمانوں کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، وہ اگلا سوال کرتا ہے: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، (سوالات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ یہ کہتا : کس نے اللہ کو پیدا کیا، جب کوئی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ (میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں)۔
حدیث نمبر: 10222
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِي إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَتَسَاءَلُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ النَّاسَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: تیری امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز اپنی تخلیق میں اُس کی محتاج ہے اور وہ ہر معاملے میں ہر ایک سے غنی ہے۔ مذکورہ بالا اور اس موضوع سے متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی مسلمان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال پیدا ہو، وہ شیطان کے وسوسے کا نتیجہ ہو یا کسی انسان کی ایجاد، تو اس کو چاہیے کہ درج ذیل تین دعاؤں میں سے کوئی ایک دعا پڑھے اور اس وسوسے کو ردّ کر دے۔
۱۔ آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) پڑھنا۔
۲۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنا اور ایسے وسوسوں کو دفع کرنا۔
۳۔ اَللّٰہُ أَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔پڑھنا،بائیں جانب تھوکنا اور پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ احادیث ِ صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس کو شیطان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جیسے سوال کا وسوسہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا جواب دینے سے پہلو تہی کرے اور ان احادیث میں بیان کیے گئے اذکار کا اہتمام کرے، ان تین احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ درج ذیل دعا پڑھ لیا کرے (تاکہ تینوں احادیث پر عمل ہو جائے): آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔اَللّٰہُأَحَدٌ،اَللّٰہُالصَّمَدُ،لَمْیَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔ پھر تین دفعہ بائیں طرف تھوکے، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے اور اس وسوسے کو دفع کر دے۔
میرا خیال ہے کہ جو آدمی پرخلوص انداز میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے یہ امور سرانجام دے گا، وہ اس قسم کے وسوسوں سے محفوظ رہے گا اور شیطان کو دھتکار دیا جائے گا۔
ایسے وسوسے کو دفع کرنے کے لیے نبوی تعلیم اس امر سے زیادہ مفید ہے کہ اس سوال کے جواب میں عقلی دلائل پیش کیے جائیں اور مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ کیا جائے، کیونکہ ایسے معاملات میں بحث و تمحیص سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات سے غافل ہیں۔
ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ سائل کے ہر سوال کا جواب دیا جائے، بلکہ مشتبہ اور پیچیدہ امور کا جواب دینے کے بجائے احکامِ شریعت پر عمل کیا جائے۔
۱۔ آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) پڑھنا۔
۲۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنا اور ایسے وسوسوں کو دفع کرنا۔
۳۔ اَللّٰہُ أَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔پڑھنا،بائیں جانب تھوکنا اور پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ احادیث ِ صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس کو شیطان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جیسے سوال کا وسوسہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا جواب دینے سے پہلو تہی کرے اور ان احادیث میں بیان کیے گئے اذکار کا اہتمام کرے، ان تین احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ درج ذیل دعا پڑھ لیا کرے (تاکہ تینوں احادیث پر عمل ہو جائے): آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔اَللّٰہُأَحَدٌ،اَللّٰہُالصَّمَدُ،لَمْیَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔ پھر تین دفعہ بائیں طرف تھوکے، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے اور اس وسوسے کو دفع کر دے۔
میرا خیال ہے کہ جو آدمی پرخلوص انداز میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے یہ امور سرانجام دے گا، وہ اس قسم کے وسوسوں سے محفوظ رہے گا اور شیطان کو دھتکار دیا جائے گا۔
ایسے وسوسے کو دفع کرنے کے لیے نبوی تعلیم اس امر سے زیادہ مفید ہے کہ اس سوال کے جواب میں عقلی دلائل پیش کیے جائیں اور مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ کیا جائے، کیونکہ ایسے معاملات میں بحث و تمحیص سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات سے غافل ہیں۔
ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ سائل کے ہر سوال کا جواب دیا جائے، بلکہ مشتبہ اور پیچیدہ امور کا جواب دینے کے بجائے احکامِ شریعت پر عمل کیا جائے۔