کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
حدیث نمبر: 10205
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ)) قَالَ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا وَفِي رِوَايَةٍ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ)) زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالَ قُلْنَا قَدْ قَبِلْنَا فَأَخْبِرْنَا عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ كَيْفَ كَانَ قَالَ ((كَانَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَكَتَبَ فِي اللَّوْحِ ذِكْرَ كُلِّ شَيْءٍ)) قَالَ وَأَتَانِي آتٍ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ إِنْحَلَّتْ نَاقَتُكَ مِنْ عِقَالِهَا قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا قَالَ فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهَا فَلَا أَدْرِي مَا كَانَ بَعْدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔ انھوں نے کہا: خوشخبری تو آپ نے ہمیں دے دی ہے، اب ہمیں (کچھ مال و متاع) دیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو تمیم خوشخبری قبول نہیں کرنا چاہتے تو اے اہل یمن! تم قبول کر لو۔ ہم نے کہا: جی ہم نے قبول کی، پس آپ ہمیں اس عالم کی ابتدا کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا، اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر لکھا۔ اتنے میں ایک آنے والے نے کہا: اے عمران! تیری اونٹنی رسی کھلا گئی ہے، پس میں اس کو پکڑنے کے لیے نکل پڑا، (وہ اتنی دور جا چکی تھی کہ) اس کے اور میرے درمیان ایک سراب نظر آ رہا تھا، پس میں اس کے پیچھے چلا گیا اور یہ نہ جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد کیا ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10205
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3191، 7418 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20117»
حدیث نمبر: 10206
عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَالَ ((كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَمَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ ثُمَّ خَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل ہمارا ربّ کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ باریک بادل میں تھا، اس کے نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی، پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10206
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،وكيع بن حدس مجھول الحال، أخرجه الترمذي: 3109، وابن ماجه: 182 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16301»
حدیث نمبر: 10207
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ فَقَالَ ((كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ)) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ ((أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا نفس خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، پس آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 508، 2559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7919»
حدیث نمبر: 10208
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس سے کہا: لکھ، پس وہ اسی گھڑی میں چلی اور قیامت تک ہونے والے امور لکھ دیئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلی مخلوق قلم ہے، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: کئی لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ مضبوط ہوچکا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور پیدا کیا، لیکنیہ عقیدہ بے بنیاد ہے او رعبد الرزاقl کی حدیث کی سند معروف نہیں ہے۔ نیز اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو پہلی مخلوق تصور کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اس دعوی کی کوئی واضح نص موجود نہیں ہے، سب کچھ استنباط و اجتہاد کی روشنی میں کہا گیا۔
قلم کے پہلی مخلوق ہونے کے دلائل واضح ہیں، ایسی واضح نصوص کے موجودگی میں کسی دوسرے اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ان احادیث کا یہ مطلب بیان کرنا کہ عرش کے بعد پہلی مخلوق قلم ہے، باطل ہے۔ اگر عرش کے اول المخلوق ہونے پر کوئی قطعی نص ہوتی تو ایسی تاویل کی گنجائش مل سکتی تھی۔
بعض فلسفی قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حوادث کی کوئی ابتدا نہیںہے اور ہر مخلوق سے پہلے کسی نہ کسی مخلوق کا وجود ضروری ہے۔
اگر اس نظریے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کسی چیز کو اول المخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ایسے لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے اور قلم کو سب سے پہلی مخلوق قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ مخلوقات کی ایک ابتدا ہے، اس ابتدا سے پہلے مخلوق کا کوئی فرد موجود نہ تھا۔ (صحیحہ: ۱۳۳) یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا، اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10208
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4700، والترمذي: 2155، 3319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23081»
حدیث نمبر: 10209
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا)) قَالَ قُلْنَا السَّحَابُ قَالَ ((وَالْمُزْنُ)) قُلْنَا وَالْمُزْنُ قَالَ ((وَالْعَنَانُ)) قَالَ فَسَكَتْنَا فَقَالَ ((هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ)) قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَمِنْ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَكِثْفُ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَفَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ رُكَبِهِنَّ وَأَظْلَافِهِنَّ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشُ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ لَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10209
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، يحييٰ بن العلاء الرازي متروك الحديث، وقال احمد: كذاب يضع الحديث، وسماك بن حرب وان كان صدوقا كان ربما لقّن، فاذا انفرد باصل لم يكن حجة، وقد تفرد بھذه الرواية عن عبد الله بن عميرة، أخرجه ابوداود: 4724، 4725، والترمذي: 3320 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1770»
حدیث نمبر: 10210
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهُ تَتَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ)) شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَحَدُ الرُّوَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا اعلی و افضل حصہ اور مقام ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس قسم کی احادیث کے متن کو سمجھ لینا کافی ہے، کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8400»
حدیث نمبر: 10211
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10211
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8455»
حدیث نمبر: 10212
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ شعر کہا تھا: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حاملین عرش کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اُذِنَ لِيْ اَنْ اُحَدِّثَ عَنْ مَلَکٍ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَۃِ الْعَرْشِ، مَابَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِہٖاِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃُ سَبْعِ مِئَۃِ سَنَۃٍ۔)) … مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملینِ عرش فرشتوں میں ایک فرشتے کییہ (جسامت) بیان کروں کہ اس کی کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال مسافت کا ہے۔ (ابوداود: ۴۷۲۷)
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر ہیں۔ جس فرشتے کی کان کی لو اور اس کے مونڈھے کا درمیان کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہو، اس کا باقی وجود کتنا بڑا ہو گا۔ ربّ جلیل ہی ہے جو تعریف و توصیف اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2314»