کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
حدیث نمبر: 10173
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِي عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ قَالَ مِسْعَرٌ وَيُصَلِّي قَالَ سُفْيَانُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا غَفَرَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع عطا کرتا، جتنا وہ چاہتا، لیکن جب کوئی اور آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھاتا تو میں اس کی تصدیق کرتا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا اور ابو بکر سچے ہیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی گناہ کرتا ہے، پھر اچھے انداز میں وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … نیکیوں سے برائیوں کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ } … اور دن کے دونوں کناروں میںنماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)
حدیث نمبر: 10174
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى لِذَلِكَ الذَّنْبِ إِلَّا غَفَرَ لَهُ وَقَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ} [آل عمران: 135] الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، پھر یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {وَمَنْ یَعْمَلْ سُوْئً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا} اور جو آدمی برائی کرتا ہے یا اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتا ہے۔ اور {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ } اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں،یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔
حدیث نمبر: 10175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن معقل کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ندامت توبہ ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے تو ایسے گناہ سے توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں: (۱)اس گناہ کو ترک کر دینا، (۲) اس پر ندامت کا اظہار کرنا اور (۳) اس کو آئندہ نہ کرنے پر پکا ارادہ کرنا۔ اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقو ق سے ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں، مذکورہ تین اور چوتھییہ کہ صاحب حق کا حق ادا کیا جائے اور کسی انداز میں اس کے ساتھ تصفیہ کر لیا جائے۔
مرکزی شرط ندامت ہی ہے، جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا پر نادم ہو گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور وہ خود آئندہ ایسا گناہ کرنے سے محفوظ رہے گا۔
مرکزی شرط ندامت ہی ہے، جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا پر نادم ہو گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور وہ خود آئندہ ایسا گناہ کرنے سے محفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 10176
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ کا کفارہ ندامت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ہر انسان طبعی طور پر غلطی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے کسی قسم کا گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور یقینا ایسے ہی ہو گا، انبیاء کے بعد کوئی کس و ناکس عفت و عصمت کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، ہر امتی کسی نہ کسی انداز میں کوئی نہ کوئی ٹھوکر ضرور کھائے گا۔ ان احادیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کر کے اس پراصرار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تو بہ و استغفار کیا جائے، کیونکہیہ چیز اسے بہت پسند ہے اور اتنی پسند ہے کہ اگر ایسے لوگ ناپید ہو جائیں، کہ جن سے گناہ کا صدور ہی نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرما دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہونے کے بعد بخشش طلب کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔ اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ وہ گناہوں کو پسند کرتا ہے اور گناہ گار اسے محبوب ہیں، بلکہ وہ تو بہ و انابت کو پسند فرماتا ہے اور ایسے ہی لوگ اسے محبوب ہیں اور یہی اس حدیث کا مفہوم ہے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔
حدیث نمبر: 10177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّوْبَةُ مِنَ الذَّنْبِ أَنْ يَتُوبَ مِنْهُ ثُمَّ لَا يَعُودَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی گناہ سے توبہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس سے توبہ کرے اور پھر اس کا ارتکاب نہ کرے۔
حدیث نمبر: 10178
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ الْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو، پس بیشک گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔
حدیث نمبر: 10179
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو، وہ آج اس کے پاس جا کر اس سے معذرت کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (اس کے مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئی دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیے رشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔