کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10149
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جھینہ قبیلے کا ایک آدمی اغر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکو بیان کرتا تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! اپنے ربّ سے توبہ کیا کرو، پس بیشک میں ایک ایک دن میں سو سو بار اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں تو بہ و استغفار کی ترغیب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مغفور تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے تھے، جو دراصل گناہ بھی نہ تھے، بلکہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَات الْمُقَرَّبِیْنَ کے مطابق خلافِ اَولی کام تھے، جنہیں گناہ سے تعبیر کیا گیا۔ تو پھر ہم عام لوگ کس طرح تو بہ و استغفار سے بے نیاز رہ سکتے ہیں جب کہ از فرق تابہ قدم (سر سے لے کر پاؤ ں تک) ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ توبہ کی کثرت اور اس کا استمرار اس لیے بھی ضرور ی ہے تاکہ غیر شعوری کیفیت میں کیے گئے گناہ بھی معاف ہوتے رہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استغفار کیوں کیا کرتے تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۵۶۲۹
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استغفار کیوں کیا کرتے تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۵۶۲۹
حدیث نمبر: 10150
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ہے، بیشک میں ایک دن میں ستر سے زیادہ دفعہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 10151
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَأَسْتَغْفِرُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ)) فَقُلْتُ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ اثْنَتَانِ أَمْ وَاحِدَةٌ فَقَالَ هُوَ ذَاكَ أَوْ نَحْوُ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ ، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو اور اس سے بخشش طلب کرو، پس بیشک میں ایک ایک دن میں سو سو بار اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں اور اس سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ راوی نے کہا: اس دعا کو دو بار شمار کیا جائے گا یا ایک بار: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (اے اللہ! بیش میںتجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، بیشک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں)؟ انھوں نے کہا: یہ تو ایک بار ہی لگتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ استغفار کا لفظ اس جملے میں ایک بار ہے، اسی طرح توبہ کا لفظ بھی ایک بار ہے، اس لیے سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتُوْبُ اِلَیْکَ کے الفاظ سو بار کہنا پڑیں گے۔
حدیث نمبر: 10152
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلُهُ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ((مِائَةَ مَرَّةٍ)) أَوْ ((أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس روایت میں ہے کہ سو بار کرتے تھے یا سو بار سے زیادہ۔
حدیث نمبر: 10153
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کر لے اور بخشش طلب کرے تو دل میں چمک اور جلا پیدا ہو جاتی ہے، اور اگر مزید گناہ کرتا ہے تو نکتے بڑھتے چلے جاتے ہیں،یہاں تک کہ اس کے دل پر وہ زنگ چڑھ جاتا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا: ہر گز نہیں، بلکہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا۔
حدیث نمبر: 10154
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَيْنِ أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ فَقَالَ لَهُ هَكَذَا فَطَارَ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَأَضَلَّهَا فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْهَا قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ فَأَمُوتُ فِيهِ قَالَ فَأَتَى مَكَانَهُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حارث بن سوید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو احادیث بیان کیں، ایک ان کا اپنا قول تھا اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث تھی، انھوں نے خود کہا: بیشک مؤمن اپنے گناہوں کو یوں خیال کرتا ہے کہ کسی پہاڑ کی نیچے کھڑا ہے اور اس کو یہ ڈر ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ پہاڑ اس کے اوپر گر جائے، جبکہ فاجر اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح خیال کرتا ہے، جو اس کے ناک پر بیٹھتی ہے اور وہ اس کو یوں کر کے اڑا دیتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آدمی کی توبہ کی وجہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے، جو کسی بیابان اور ہلاکت گاہ جنگل میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، جس پر اس کا کھانا پینا، زادِ راہ اور دوسری اشیائے ضرورت لدی ہوئی ہوں، پھر وہ سواری اس سے گم ہو جائے، وہ اس کو تلاش کرے، یہاں تک کہ اس کو موت پا لے، پھر وہ کہے: اب میں اپنے اسی مقام پر واپس جاتا ہوں، جہاں اس سواری کو گم پایا تھا اور وہاں جا کر مر جاتا ہوں، پس وہ اپنے مقام کی طرف واپس لوٹے اور وہاں سو جائے، پھر جب بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہو اور اس پر اس کا کھانا پینا، زادِ راہ اور دوسری اشیائے ضرورت لدی ہوئی ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کا گناہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرنا، اس سے اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10155
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ وَفِيهِ ((فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ بِهَا فَرَحًا مِنَ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ذرا مختلف ہیں: پس وہ سواری اس کے پاس کھڑی تھی اور اپنی لگام کھینچ رہی تھی، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے جو خوشی ہوتی ہے، یہ آدمی اس سے زیادہ خوش نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 10156
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَيَفْرَحُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا)) قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کی سواری گم ہو جائے تو کیا وہ اس کو پا لینے پر خوش ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے، جو تم میں سے کسی کو سواری پا لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10157
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کو پھیلا دیتا ہے، تاکہ دن کو برائیاں کرنے والا توبہ کر سکے اور پھر دن کو اپنا ہاتھ پھیلا دیتا ہے، تاکہ رات کو برائیاں کرنے والا توبہ کر سکے، یہ سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازنہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
توبہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں ہے، کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات میں دعا جلد قبول ہو جاتی ہے، جیسے رات کا پچھلا پہر، سجدوں میں، اذان اور اقامت کا درمیانی وقفہ، جمعہ کے دن کی قبولیت والی گھڑی، وغیرہ وغیرہ۔
اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی گناہ ہو جائے انسان بلا تاخیر توبہ کے لیے بارگاہِ الہی میں جھک جائے۔ اللہ تعالیٰ اس قدر رحیم و شفیق ہے کہ وہ گنہگاروں کی توبہ کا منتظر رہتا ہے۔
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازنہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
توبہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں ہے، کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات میں دعا جلد قبول ہو جاتی ہے، جیسے رات کا پچھلا پہر، سجدوں میں، اذان اور اقامت کا درمیانی وقفہ، جمعہ کے دن کی قبولیت والی گھڑی، وغیرہ وغیرہ۔
اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی گناہ ہو جائے انسان بلا تاخیر توبہ کے لیے بارگاہِ الہی میں جھک جائے۔ اللہ تعالیٰ اس قدر رحیم و شفیق ہے کہ وہ گنہگاروں کی توبہ کا منتظر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 10158
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِيدُوا فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ وَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ لَمْ يَنْقُصْنِي إِلَّا كَمَا لَوْ مَرَّ أَحَدُكُمْ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا وَذَلِكَ لِأَنِّي جَوَّادٌ مَاجِدٌ وَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ عَطَائِي كَلَامِي وَعَذَابِي كَلَامِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! تم سارے کے سارے گنہگار ہو، مگر جس کو میں عافیت عطا کر دوں، پس تم مجھ سے بخشش طلب کیا کرو، میں تم کو بخش دوں گا۔ جس نے یہ جان لیا کہ میں بخشش کے معاملے میں قدرت والا ہوں اور پھر مجھ سے میری قدرت کی وجہ سے مغفرت طلب کی تو میں اس کو بخش دوں گا اور کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سارے کے سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دے دی، پس مجھ سے ہدایت کا سوال کیا کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سارے کے سارے فقیر تھے، مگر جس کو میں غنی کر دوں، پس تم مجھ سے سوال کیا کرو، میں تم کو رزق عطا کروں گا، اگر تمہارے زندہ اور مردے، پہلے اور پچھلے اور تر اور خشک میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی آدمی کے دل پر جمع ہو جائیں تو میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہو گا، اسی طرح اگر تمہارے زندہ اور مردے، پہلے اور پچھلے اور تر اور خشک جمع ہو جائیں اور ہر مانگنے والا اپنی خواہش کے مطابق مانگنا شروع کر دے تو ہر سوالی کو عطا کر دینے سے میرے ہاں کوئی کمی نہیں آئے گی، مگر اس قدر کہ جیسے کسی آدمی کا سمندر کے کنارے سے گزر ہو اور وہ سوئی کو اس میں ڈبوئے اور پھر اس کو نکال لے، یہ اس وجہ سے ہے کہ میں سخی ہوں، بزرگ ہوں، غنی ہوں، جو چاہتا ہوں، کر دیتا ہوں، میری عطا میرا کلام ہے، میرا عذاب میرا کلام ہے، جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کو اتنا کہتا ہوں کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی بڑی شان و عظمت کا بیان ہے، جب وہ کسی کو خزانے عطا کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اس کو کوئی لمبی چوڑی منصوبہ بندی نہیں کرنی پڑتی، بس صرف اتنا کہنا ہوتا ہے کہ فلاں کام ہو جائے، سو وہ ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10159
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عَبْدِي مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً)) الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندے! جب تک تو میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ پر امید قائم رکھے گا تو میں تیرے ہر گناہ کو بخش دوں گا، وہ جو بھی ہو گا، اے میرے بندے! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر مجھے ملے، تو میں ان ہی کے بقدر بخشش لے کر تجھے ملوں گا، بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو، … … ۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی ایسا گناہ نہیں ہے، جو توبہ کے سامنے اپنا وجود برقرار رکھ سکے، توبہ سے ہر قسم کے گناہ راکھ ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ توبہ سچی اور خالص ہو۔
حدیث نمبر: 10160
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ((إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ وَلَا أُبَالِي وَقَالَ يَا بَنِي آدَمَ كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَيِّيكُمْ وَبَيِّنَكُمْ عَلَى قَلْبِ أَتْقَاكُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ تَزِيدُوا فِي مُلْكِي شَيْئًا وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ عَلَى قَلْبِ أَكْفَرِكُمْ رَجُلًا لَمْ تَنْقُصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک میں نے اپنے نفس پر اور اپنے بندوں پر ظلم کرنے کو حرام قرار دیا ہے، پس تم ظلم نہ کیا کرو، بنو آدم کا ہر فرد دن رات خطائیں کرتا ہے، لیکن پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے تو میں کوئی پرواہ کیے بغیر اس کو بخش دیتا ہوں،اے بنو آدم! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے، مگر جس کو میںہدایت دے دوں، تم میں سے ہر ایک ننگا ہے، مگر جس کو میں لباس عطا کر دوں، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے، مگر جس کو میںکھلا دوں اور تم میں سے ہر ایک پیاسا ہے، مگر جس کو میں پانی پلا دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، مجھ سے لباس کا سوال کرو، میں تم کو لباس عطا کروں گا، مجھ سے کھانا طلب کرو،میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پانی پلاؤں گا، اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت اور بولنے سے عاجز اور فصیح الکلام، سارے کے سارے تم میں سے سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرو گے، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے اور مذکر اور مؤنث، سارے کے سارے تم میں سے سب سے زیادہ کفر کرنے والے کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں کر سکو گے، مگر اتنی جتنی سوئی کا نکہ سمند کے پانی میں کمی کرتاہے۔
حدیث نمبر: 10161
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اغرّ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ (آسمان دنیا کی طرف) اترتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گنہگار ہے؟ ایک بندے نے کہا: طلوع فجر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم تو کریں گے، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکیں گے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا دو تہائی رات کے بعد، (۳) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔
قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 10162
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ابن آدم خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں، اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھرتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتاہے۔
حدیث نمبر: 10163
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن حنفیہؒ اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس مؤمن بندے سے محبت کرتا ہے، جس کو فتنے میں ڈالا جاتا ہو اور پھر وہ توبہ کرنے والا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ آزمائشوں اور فتنوں کی وجہ سے مسلمان کے درجات بلند ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان آزمائشوںمیں اسلامی احکام کا خیال رکھے۔
حدیث نمبر: 10164
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ہر روز اللہ تعالیٰ سے سو بار بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 10165
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِمْ وَفِي رِوَايَةٍ وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری زبان میں تیزی اور فساد تھا، لیکن اس کا تعلق صرف میرے گھر والوں سے تھا، ان سے آگے تجاوز نہیں کرتا تھا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! تو استغفار سے دور کیوں ہے؟ میں تو ہر روزاللہ تعالیٰ سے سو بار استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ جب میں نے یہ بات ابو بردہ بن ابی موسی سے بیان کی تو انھوں نے مجھے سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ہر شب وروز میں سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔