حدیث نمبر: 10136
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ هُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی زمانے کو گالی نہ دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے اور کوئی آدمی انگوروں کو کَرَم نہ کہے تو کیونکہ کَرَم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۹۶۱)
حدیث نمبر: 10137
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ کہتا ہے : اے زمانے کی ناکامی! جبکہ میں زمانہ ہوں، دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو ان دونوں کو قبض کر لوں۔
وضاحت:
فوائد: … عربوں کی عادت تھی کہ وہ زمانے کی مذمت کرتے تھے اور نوازل و حوادث کے وقت اسی کو برا بھلا کہتے تھے اور اپنے شعروں میں بھی اس چیز کا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے، کیونکہ ان کا نظریہیہ تھا کہ یہ سب کچھ زمانے کا ہیر پھیر ہے اور وہی مصائب سے دوچار کرتا ہے، لیکن در حقیقتیہ فاعل کو برا بھلا کہنا تھا اور ہر چیز کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔} … اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔ (سورۂ جاثیہ: ۲۴)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام
کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام
کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
حدیث نمبر: 10138
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنَّهَا مِنْ رُوحِ اللَّهِ) فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ اس کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پس جب تم ہوا میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَمِنْ خَیْرِ مَا فِیْھَا، وَمِنْ خَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ،وَنَعُوْذُبِکَمِنْشَرِّھٰذِہِالرِّیْحِ وَمِنْ شَرِّ مَافِیْھَا، وَمِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ۔ (اےاللہ! بے شک ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا، اس میں موجود بھلائی کا اور اس خیر کا سوال کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا اور اس ہوا کے شرّ سے، اس میں موجود شرّ سے اور اس شرّ سے پناہ مانگتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا چلتی ہے، اس میں پائی جانے والی خیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس میں پائے جانے والا شرّ کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق میں خیر اور شرّ، دونوں کے عناصر پائے جاتے ہوں، اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرنا چاہیے اور اس کے شرّ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 10139
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ثَنَا صَالِحُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ إِنَّهُ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرغ کو گالی دینے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نماز کے لیے گویا اذان دیتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … نماز کے لیے اذان دینے سے مراد یہ ہے کہ مرغ عام طور پر طلوعِ فجر اور زوال کے وقت آواز نکالتاہے، اس سے لوگوں کو نماز فجر اور نماز ظہر کا احساس ہو جاتا ہے، بہرحال مرغ کی آواز کے بعد نماز کے وقت کییقین دہانی کرنا ضروری ہے۔