حدیث نمبر: 10121
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَتَضَايَقَ بِهِمُ الطَّرِيقُ فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ حَلْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ پر کچھ بعض افراد کا سامان لدا ہوا تھا اور ایک لونڈی بھی سوار تھی، جب لوگ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے میں چلے اور راستہ تنگ ہو گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، تو کہا: چل چل، اے اللہ! اس اونٹنی پر لعنت کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ اس سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ کو نہ چلایا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 10122
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ يَعْنِي النَّاقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، ایک انصاری خاتون ایک اونٹنی پر تھی، اس نے اس کو ڈانٹا اور اس پر لعنت کر دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر جو سامان لدا ہوا ہے، وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو، کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں، وہ لوگوں کے بیچ میں چل رہی تھی اور کوئی بھی اس کے درپے نہیں ہو رہا تھا۔
حدیث نمبر: 10123
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا قَالَ أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی پر لعنت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ متعلقہ آدمی نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کو پیچھے کر دے، اس پر کی گئی بددعا قبول کرلی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 10124
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ وَقَالَ لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْكَبِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10125
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر، بیشک یہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جو چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر معاون ہو، وہ مدح کی مستحق ہوتی ہے، نہ مذمت کی۔
سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یُوْقِظُ لِلصَّلاَ ۃِ۔)) … مرغ کو گالی نہ دیا کرو، کیونکہیہ نماز کے لیے جگاتاہے۔
عام تجربہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ کے اندر جو فطرت ودیعت رکھی ہے، اس کی وجہ سے وہ فجر سے پہلے اور زوال کے وقت لگاتار آواز نکالنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہرحال یہ ایک علامت ہے، اس کے بعد وقت کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یُوْقِظُ لِلصَّلاَ ۃِ۔)) … مرغ کو گالی نہ دیا کرو، کیونکہیہ نماز کے لیے جگاتاہے۔
عام تجربہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ کے اندر جو فطرت ودیعت رکھی ہے، اس کی وجہ سے وہ فجر سے پہلے اور زوال کے وقت لگاتار آواز نکالنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہرحال یہ ایک علامت ہے، اس کے بعد وقت کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔