کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
حدیث نمبر: 10111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے ۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعائیں بھی دوسروں کے لیے باعث ِ تزکیہ و طہارت اور باعث ِ اجر و ثواب بن جاتی ہیں،یہ دراصل رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والے کی عظمت و منقبت ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی پر لعنت کریںیا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔
حدیث نمبر: 10112
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ يَعْنِي ابْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى سَلْمَانَ فَيَقُولُ سَلْمَانُ يَا حُذَيْفَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ وَيَرْضَى وَيَقُولُ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلْدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے
حدیث نمبر: 10113
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَجُلًا فَقَالَ احْتَفِظِي بِهِ قَالَ فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا حَفْصَةُ مَا فَعَلَ الرَّجُلُ قَالَتْ غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا صَفِّي يَدَيْكِ فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا: اس کی حفاظت کر کے رکھنا۔ لیکن انھوں نے غفلت برتی اور وہ بندہ نکل گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: حفصہ! اس آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے غفلت ہو گئی اور وہ نکل گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں کو کاٹ دے۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئی اور پوچھا: حفصہ! تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے یہ بد دعا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو سیدھا کر لے، پس بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنی امت کے جس فرد کو بد دعا دوں، وہ اس کو اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔
حدیث نمبر: 10114
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَسِيرٍ فَلَهَوْتُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْأَسِيرُ قَالَتْ لَهَوْتُ عَنْهُ مَعَ النِّسْوَةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَا لَكِ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ أَوْ يَدَيْكِ فَخَرَجَ فَآذَنَ بِهِ النَّاسَ فَطَلَبُوهُ فَجَاءُوا بِهِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ فَقَالَ مَا لَكِ أَجُنِنْتِ قُلْتُ دَعَوْتَ عَلَيَّ فَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ أَنْظُرُ أَيُّهُمَا يُقْطَعَانِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَوْ مُؤْمِنَةٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَطُهْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قیدی میرے پاس لائے، لیکن میں اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھاگ گیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی میں دوسری خواتین کے ساتھ غافل ہو گئی تھی، پس وہ نکل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں یا پاؤں کو کاٹ دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں اس قیدی کا اعلان کیا، پس انھوں نے اس کو تلاش کیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے، پاگل ہو گئی ہے تو؟ میں نے کہا: جی آپ نے مجھ پر بد دعا کی ہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی ہوں کہ کون سا ہاتھ پہلے کٹتا ہے، ہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! بیشک میں ایک بشر ہوں اور بشر کی طرح ہی غصے ہو جاتا ہوں، پس میں جس مؤمن مردیا عورت پر بد دعا کروں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب بنا دے۔
حدیث نمبر: 10115
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ قَالَ بِهَزَفِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔
حدیث نمبر: 10116
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثَرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ وَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَرَهِقُوهُ فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ وَقَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْقَوْمُ فَقَالَ كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ كَمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔
حدیث نمبر: 10117
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَهِدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔
حدیث نمبر: 10118
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَسْبِقْنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعنت کی۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفقاء صحابۂ کرام تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت پر مشتمل بد دعاان کے لیے باعث ِ تزکیہ و رحمت ہو گی۔
ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 10119
عَنْ أَبِي السَّوَّارِ عَنْ خَالِهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ فَاتَّبَعْتُهُ مَعَهُمْ قَالَ فَفَجِئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ قَالَ وَأَبْقَى الْقَوْمُ قَالَ فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً إِمَّا بِعَسِيبٍ أَوْ قَضِيبٍ أَوْ سِوَاكٍ أَوْ شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي قَالَ فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ قَالَ وَقُلْتُ مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِشَيْءٍ عَلَّمَهُ اللَّهُ فِيَّ قَالَ وَحَدَّثَنِي نَفْسِي أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحْتُ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكَ رَاعٍ لَا تَكْسِرَنَّ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ أَوْ قَالَ صَبَّحْنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّ أُنَاسًا يَتْبَعُونِي وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتَّبِعُونِي اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا أَوْ قَالَ مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً أَوْ كَمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 10120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَا أَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مسلمان کے حق میں بددعائیہ کلمات کہہ دیں تو وہ اس کے حق میں رحمت ثابت ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں تو ایسے۔