کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
حدیث نمبر: 10101
عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّى فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا … ۔
وضاحت:
فوائد: … بدعت ہر اعتبار سے ضلالت ہے اور بدعتی انسان کا اکرام کرنا، اس کا دفاع کرنا اور اس کی پشت پناہی کرنا بہت بڑا شرعی ظلم ہے۔ اس میں ان حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو مجرموں کو تحفظ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹی ناموری کے لیے لعنت اور پھٹکار کے مستحق ٹھہرتے ہیں،بالخصوص عصر حاضر کے سیاسی لوگ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
حدیث نمبر: 10102
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔
وضاحت:
فوائد: … جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اورہستی (پیر، پیغمبر، نبی، قطب، ابدال، نیک صالح اور بزرگ وغیرہ) کے لیے، ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر جانور ذبح کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔
نشانات کو بدلنے سے کیا مراد ہے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۰۱۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1978 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 855»
حدیث نمبر: 10103
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غصہ سخت ہو گیا، جس کو اللہ کا رسول اس کی راہ میں قتل کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بہت بڑی بد نصیبی ہے کہ کوئی آدمی کسی جنگ میں نبی کی مخالفت میں لڑ رہا ہو اور نبی اس کو قتل کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الحاكم: 4/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8198»
حدیث نمبر: 10104
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي الْقَوَارِيرِيَّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا وَقَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ تَشْكُوهُ قَالَ قُولِي لَهُ قَدْ أَجَارَنِي قَالَ عَلِيٌّ فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا وَقَالَ قُولِي لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَارَنِي فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ أَثِمَ بِي مَرَّتَيْنِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَوَارِيرِيِّ وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ولید مجھے مارتا ہے، اس طرح اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دے دی ہے۔ وہ چند دن ٹھہرنے کے بعد پھر آئی اور کہا: اس نے تو میری پٹائی کرنے میں اضافہ ہی کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کپڑے کا جھالر پکڑا اور اس کو دے کر فرمایا: اس کو کہنا کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دی ہے۔ وہ معمولی عرصہ گزارنے کے بعد پھر آگئی اور کہا: اس نے میری مار میں ہی اضافہ کیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! تو ولید کی گرفت کر، وہ میری وجہ سے دو بار گنہگار ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10104
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم، وضعفِ نعيم بن حكيم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1304»
حدیث نمبر: 10105
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ مَلْعُونٌ مَنْ كَمَهَ أَعْمَى عَنْ طَرِيقٍ مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو گالی دینے والا ملعون ہے، اپنی ماں کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے، زمین کے نشانات کو تبدیل کر دینے والا ملعون ہے، اندھے کو راستے سے بھٹکا دینے والا ملعون ہے، چوپائے سے بد فعلی کرنے والا ملعون ہے اور قوم لوط والا فعل کرنے والا بھی ملعون ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10105
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11546، والحاكم: 4/ 356، والبيھقي: 8/ 231 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1875»
حدیث نمبر: 10106
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ لَا يَزَالُ حَوَارِيُّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ هُمَا قَالَ فَقَالُوا فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو افراد کو گاتے ہوئے سنا، وہ ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے مددگاروں کی ہڈیاں تو (دفن نہ ہونے کی وجہ سے) نظر آتی رہیں، اس نے اپنے آپ سے لڑائی کے ہٹ جانے کو روک دیا کہ اس کو مٹی کے نیچے چھپا کر دفن کر دیاجاتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھویہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں اور فلاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے سر کے بال گرا دے اور دھتکار دے جہنم میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10106
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، مسلسل بالضعفاء والمجاھيل،يزيد بن ابي زياد ضعيف، كبر فتغير وصار يتلقن، وسليمان مجھول، وابوھلال لايعرف، أخرجه البزار: 3859، وابن ابي شيبة: 15/232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20018»
حدیث نمبر: 10107
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ لَا يَزَالُ حَوَارِيُّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ هُمَا قَالَ فَقَالُوا فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حکم بن ابی العاص تھا، یہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا چچا اور مروان کا باپ تھا، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا اور پھر مدینہ منورہ میںسکونت اختیار کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو طائف کی طرف بھیج دیا، پھر یہ وہیں رہا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کو مدینہ میں بلا لیا، پھر یہیں اس نے وفات پائی۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں کہا: حکم بن ابی العاص پر لعنت کرنے اور اس کو جلاوطن کرنے سے متعلقہ کافی ساری احادیث ہیں، ان سب کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہرحال یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی امرِ عظیم کی وجہ سے ایسے کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردبار اور چشم پوش تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20018»
حدیث نمبر: 10108
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَقُولُ لَا يَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتَ وَحْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مخنث مردوں،مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور تبتل اختیار کرنے والے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے، اور بیابان میں اکیلے سوار پر بھی لعنت کی،یہ باتیں صحابہ پر بڑی گراں گزریں،یہاں تک کہ ان کے چہروں سے واضح ہونے لگا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اکیلا رات گزارنے والابھی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10108
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون لعنة راكب الفلاة والبائت وحده، وھذا اسناد ضعيف لجھالة طيب بن محمد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7878»
حدیث نمبر: 10109
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَقُولُ لَا يَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتَ وَحْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگ دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح اور اس کی لعنت میں شام کریں گے، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو ایسے گناہ سے محفوظ رہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10109
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2857 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7878»
حدیث نمبر: 10110
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ ثَنَا سَيَّارٌ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ أَوْ قَالَ يَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي غَضَبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10110
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 8000 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22502»