کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 10093
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِهِ وَلَا بِالنَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔
کسی معین شخص بالخصوص مؤمن آدمییا کسی مخصوص چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی بد دعا کرنا سخت منع ہے، کیونکہ اس بد دعا کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کافر مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے، بیشتر لوگ ہنسی مذاق یا سنجیدگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو لعنتی جیسے قبیح القاب سے پکارنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اگر کوئی آدمی ایسے الفاظ کہنے سے گریز نہیں کرتا تو خود اس کے ملعون ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَیْئًا صَعِدَتِ اللَّعَنَۃُ اِلَی السَّمَائِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَائِ دُوْنَھَا، ثُمَّ تَھْبِطُ اِلَی الْاَرْضِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُھَا دُوْنَھَا۔ ثُمَّ تَأْخُذُ یَمِیْنًا وَ شِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَی الَّذِیْ لُعِنَ، فَاِنْ کَانَ اَھْلًا لِذَالِکَ، وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلٰی قَائِلِھَا۔)) (ابوداود: ۴۹۰۵) … جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے کہ تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے دروازے بھی اس کے ورے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دائیں اور بائیں سمت اختیار کرتی ہے، پھر جب کوئی گنجائش نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ پس اگر وہ چیز اس لعنت کی مستحق ہو (تو اسی پر پڑتی ہے) وگرنہ وہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (اور یوں لعنت کرنے والا خود اپنی لعنت کا حقدار بن جاتا ہے)۔
لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی تعیین کے بغیر کافروں، فاسقوں اور بدکاروں کے حق میں اور ان لوگوں کے حق لعنت کی بددعا کی جا سکتی ہے، جن کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چوری کرنے والے، والدین پر لعنت کرنے والے، غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے، تصویر بنانے والے، سود کھانے والے، مردوں سے مشابہت
کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے لعنت کی بددعا کرنا ثابت ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرناجائز نہیں، چاہے وہ بظاہر ظالم ہو، جھوٹا ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو یا قاتل ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص پر اس کے ظلم یا جھوٹ یا کسی اور گناہ کی وجہ سے لعنت کی جا رہی ہے، اس نے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو یاآئندہ کر لے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ظالم یا جھوٹا نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف کر دے۔ اس لیے کسی بھی گنہگار مسلمان کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، اس پر اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد لعنت کرنا جائز نہیں۔ صرف یہ کہنا جائز ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو، ظالموں پر لعنت ہو، ابو جہل پر لعنت ہو، منافقوں اور کافروں پر لعنت ہو،کیونکہ اس انداز میں صرف وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹے اور ظالم ہی قرار پاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10093
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4906، والترمذي: 1976 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20437»
حدیث نمبر: 10094
عَنْ جَرْمُوزِ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ ((أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔
وضاحت:
فوائد: … لعنت کی بد دعا کی ممنوعہ صورتیں مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الطبراني في الكبير : 2181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20954»
حدیث نمبر: 10095
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَلَعَنَهَا فَقَالَتْ لَا تَلْعَنْ فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتیں اور وہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10095
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2598 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28079»
حدیث نمبر: 10096
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ وَلَا الطَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … متانت، سنجیدگی،وقار اور ٹھہراؤ، باایمان لوگوں کا زیور ہے، ان کے چال چلن، اٹھک بیٹھک، قول و کردار اور بول چال غرضیکہ ہر چیز میں اعتدال ہوتا ہے، جبکہ حدیث میں مذکورہ خصائل ذمیمہ ایمان اور اعتدال کے منافی امور ہیں، اس لیے مومن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 5379، والطبراني في الكبير : 10483، والبيھقي: 10/ 193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3948»
حدیث نمبر: 10097
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا يَنْبَغِي لِلصِّدِّيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10097
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8768»
حدیث نمبر: 10098
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ فَاسْتَسْقَى قَالَ فَبَعَثَتِ الْجَارِيَةَ تَجِيءُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَتْهَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَأَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَأَبْطَأَتْ إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ فَأَبْطَأَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَإِلَّا قَالَتْ يَا رَبِّ وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ)) فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ فَأَكُونَ سَبَبَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوں سے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جاؤں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10098
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3876»
حدیث نمبر: 10099
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10099
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6105، 6652، ومسلم: 110 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16498»
حدیث نمبر: 10100
عَنْهُ أَيْضًا رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ وَمَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ)) أَوْ قَالَ ((مُؤْمِنٍ بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ لَعَنَهُ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا حَلَفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمییوں کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو یا کروں تو میں یہودییا عیسائی ہو جاؤں، جبکہ وہ جھوٹا بھی ہو، اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا ذکر ہو سکتا ہے۔
یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو، لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔
بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16505»