حدیث نمبر: 10090
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ ((لَا أَدْرِي)) فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ ((يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ)) قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:((أَحَبُّ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین مقام مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقام بازار ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۷۱)
بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔
بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔
حدیث نمبر: 10091
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ ((لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ)) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حجر، ثمود کی وادی ہے، جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے، صالح علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس وادی میں ان پر عذاب آیا تھا، ایسے مقام سے گزرتے وقت خوف و خشیت کا عالَم طاری ہونا چاہیے، وگرنہ جو آدمی وہاں سے گزرتے وقت ان کی حالت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے نہ رویا، تو اس نے ان کے عمل سے مشابہت اختیار کی اور اس کادل سخت ہو گیا، پس ممکن ہے کہ اس کو بھی اس قسم کے عذاب سے دوچار کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 10092
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ بَدَا جَفَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل کبھی بھی معمور نہیں ہوتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔