کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
حدیث نمبر: 10080
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، جس کو اس کے مالکوں نے پھینک دیا تھا، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی اہمیت اس بکری کی اس کے مالکوں کے ہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت اس سے بھی کم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر دنیا و آخرت میں صرف یہ فرق ہوتا کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے، تب بھی آخرت کو ترجیح دی جاتی، جبکہ آخرت دائمی بھی ہے اور بہت قیمتی بھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10080
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3691، وابويعلي: 2593 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3047»
حدیث نمبر: 10081
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا فَقَالَ ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا)) قَالُوا نَعَمْ قَالَ ((لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب آدم علیہ السلام اور حواm نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کی توبہ تو قبول ہو گئی، لیکن پھر بھی ان کو زمین پر اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھوئے ہوئے ورثے کو پانے کی کوشش کریں، درحقیقت انسان جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، نہ کہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2737 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8445»
حدیث نمبر: 10082
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ فَمَرَّ بِالسُّوقِ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ ((بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ)) قَالُوا مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ ((بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ)) قَالُوا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَ ((فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالائی علاقے میں تشریف لائے اور وہاں چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے ایک مردار بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کو پکڑا اور بلند کیا اور پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض لینا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کے عوض کوئی چیز دینا بھی گوارا نہیں کریں گے، بھلا ہم نے اس کو کیا کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض خریدنا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو اس بنا پر معیوب سمجھا جاتا کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، اب تو سرے سے ہے ہی مردہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10082
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14992»
حدیث نمبر: 10083
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((وَاللَّهِ)) وَفِي لَفْظٍ ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ)) وَفِي لَفْظٍ ((فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ أَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ)) وَفِي لَفْظٍ ((يَعْنِي الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ)) قَالَ وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوا عَنْهُ فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ فَقَالَ ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا)) قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا قَالَ ((فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10083
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 2858 دون قصة سخلة، وأخرج ھذه القصة الترمذي: 2321، وابن ماجه: 4111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18184»
حدیث نمبر: 10084
عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ((يَا ضَحَّاكُ مَا طَعَامُكَ)) قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ قَالَ ((ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا)) قَالَ إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے ؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10084
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 8138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15839»
حدیث نمبر: 10085
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے، ، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کو لالچی اور حریص او رزبان کے چسقوں کاغلام اور گرویدہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کا تعلق حلق سے اوپر تک ہے۔ حلق سے نیچے کھانے کا کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیںکیا جاتا کہ وہ مزیدار تھا یا بے مزہ۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ ُصْلَبٗہ،فَاِنْکَانَلَامَحَالَۃً، فَثُلُثٌ لِطَعَامِہِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ،وَثُلُثٌلِنَفَسِہِ۔)) (ترمذی) … کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ اپنے کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پانی کے لیے اور تیسرا حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10085
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 702، والطبراني في الكبير : 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21559»