حدیث نمبر: 10042
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا تَرَكْتُ فِي النَّاسِ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے بعد لوگوں میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو، ما سوائے عورتوں کے۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں ایک طرف تو عورت کو کلیدی حیثیت کا مالک ٹھہرایا گیا ہے، یہ عورت ہی ہے جو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا روپ اختیار کرکے اپنے بیٹوں، اپنے باپوں، اپنے بھائیوں اور اپنے خاوندوں سے الفت و محبت اور احترام و اکرام وصول کرتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَ خَیْرُ مَتَاعِھَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسلم: ۱۴۶۷) … دنیا ساز و سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان، نیک عورت ہے۔ عورتوںکے ساتھ بہترین حسن سلوک اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِھِمْ۔)) (ترمذی: ۱۱۶۲) … تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے اور تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے۔
یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ تحفظ، احترام اور مقام عطا کیا، مردوں کو ان کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرے سے غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے اور بالخصوص نظرِ بد سے دیکھنے سے منع کر دیا۔
بہرحال اس مقام ومرتبہ کے باوجود عورت فتنہ باز، سازشی، مکار، ناشکری اور شکایتی ثابت ہوئی ہے۔ اس کی نالائقی اور بے صبری کو دیکھیں کہ یہ ایک خاوند، ساس سسر اور گھر میں بسنے والے چند افراد کو راضی نہیں رکھ سکتی ہے۔
عصر حاضر میں عورتوں کی نیم برہنہ حالت اور بے پردگی اچھے خاصے مومنوں کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی ہے، بازاروں میں بدکاری اور نظروں کا زنا عام ہے، گھروں سے باہر نکل کر جدھر نگاہ اٹھائیں، ہر طرف شیطانوں کے روپ میں عورتوں کے جاذبِ نظر چہرے اور بدکاری کے اسباب و وسائل نظر آتے ہیں، رہی سہی کمی میڈیا اور اشتہار بازی نے خوب پوری کر دی ہے۔ اس سے بڑا مکر و فریب کیا ہو سکتا ہے کہ شادی کے چند روز بعد ہی عورت نے اپنے خاوند کے سامنے قسما قسم کے بتول پڑھ پڑھ کے اسے خرید لیا اور اس کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں کا دشمن ثابت کر دکھایا۔ آجکل مرد حضرات اپنے مجازی خالق والدین کی گستاخی کرتے ہیں، اپنے بہن بھائیوں کی محبتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے بھتیجے اور بھانجے ان کے میٹھے بولوں کو ترسنے لگتے ہیں، ان سب کارستانیوں کی جڑ عورت ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ شادی سے پہلے رشتہ داروں کے ساتھ معاملات اور ہوتے ہیں اور شادی کے بعد رخ بدلتے ہوئے نظرآنے لگتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟ ساس کے کردار پر نگاہ ڈالیں، اس کی سازشوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ اس کا داماد اس کی بیٹی کا ہو کر رہ جائے اور اپنے جنم دینے والوں کو دشمن سمجھنے لگے۔ کتنے بدبخت اور کمینے ہیں وہ لوگ، جو اپنی بیویوں اور ساسوں کے پاس بیٹھ کر اپنی ماؤں بہنوں کی بدخوئی کرتے ہیں۔
مسلم معاشرہ کے اکثر افراد بدکار، چالباز اور آوارہ عورتوں کے جال میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے کبھی پوری دنیا میں تعلیمی میدان میں شکست کھاجانے والے ذہین نوجوانوں کے پست ہو جانے کے اسباب پر کبھی غور کیاہے؟ کالجز اور یونیورسٹیز کے آوارہ صفت ماحول کے نتائج پر کبھی غور کیا ہے؟ والدین سے بے رخی کرنے والے بیس سالہ لڑکے کے اسباب کے بارے میںدریافت کیا ہے؟ معاشرے کے اکثر نوجوان شادیوں کے قابل کیوں نہیں رہے؟ شادی کا نام سن کر ان کے رنگ پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ والدین کی طے شدہ نسبتوں کو کیوں ٹھکرا دیا گیا؟ ایک آدمی بچوں کا باپ ہونے، ان کے ناز نخرے پورے کرنے اور ان سے پیارو محبت کے دعوے کرنے کے باوجود اپنے ماں اور باپ کو کیوں بھول جاتا ہے؟ وسعت ہونے کے باوجود اپنے والدین پر خرچ کرنے کے معاملے میں کیوں کنجوسی برتی جاتی ہے؟ … … شاید ان سب سوالوں کے جوابات لفظ عورت پر آ کر رک جائیں۔
یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ خاتون کو ہر ایک کے احسانات یاد ہوتے ہیں، وہ اپنے بھائیوں اور بہنوئیوں کی تعریف کرے گی، وہ اس شخص کی مدح سرائی کرنا بھی نہیں بھولے گی، جس نے خوشی کے موقع پر اس کے بچے کو پانچ سو روپیہ دیا ہو گا، ما سوائے اپنے خاوند کے، جو مہینوں میں اس پر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے منفی پہلو کو سامنے رکھ کر اس کی بغاوت اور احسان فراموشی کی جائے گی، الا ما شاء اللہ۔
یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ تحفظ، احترام اور مقام عطا کیا، مردوں کو ان کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرے سے غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے اور بالخصوص نظرِ بد سے دیکھنے سے منع کر دیا۔
بہرحال اس مقام ومرتبہ کے باوجود عورت فتنہ باز، سازشی، مکار، ناشکری اور شکایتی ثابت ہوئی ہے۔ اس کی نالائقی اور بے صبری کو دیکھیں کہ یہ ایک خاوند، ساس سسر اور گھر میں بسنے والے چند افراد کو راضی نہیں رکھ سکتی ہے۔
عصر حاضر میں عورتوں کی نیم برہنہ حالت اور بے پردگی اچھے خاصے مومنوں کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی ہے، بازاروں میں بدکاری اور نظروں کا زنا عام ہے، گھروں سے باہر نکل کر جدھر نگاہ اٹھائیں، ہر طرف شیطانوں کے روپ میں عورتوں کے جاذبِ نظر چہرے اور بدکاری کے اسباب و وسائل نظر آتے ہیں، رہی سہی کمی میڈیا اور اشتہار بازی نے خوب پوری کر دی ہے۔ اس سے بڑا مکر و فریب کیا ہو سکتا ہے کہ شادی کے چند روز بعد ہی عورت نے اپنے خاوند کے سامنے قسما قسم کے بتول پڑھ پڑھ کے اسے خرید لیا اور اس کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں کا دشمن ثابت کر دکھایا۔ آجکل مرد حضرات اپنے مجازی خالق والدین کی گستاخی کرتے ہیں، اپنے بہن بھائیوں کی محبتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے بھتیجے اور بھانجے ان کے میٹھے بولوں کو ترسنے لگتے ہیں، ان سب کارستانیوں کی جڑ عورت ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ شادی سے پہلے رشتہ داروں کے ساتھ معاملات اور ہوتے ہیں اور شادی کے بعد رخ بدلتے ہوئے نظرآنے لگتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟ ساس کے کردار پر نگاہ ڈالیں، اس کی سازشوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ اس کا داماد اس کی بیٹی کا ہو کر رہ جائے اور اپنے جنم دینے والوں کو دشمن سمجھنے لگے۔ کتنے بدبخت اور کمینے ہیں وہ لوگ، جو اپنی بیویوں اور ساسوں کے پاس بیٹھ کر اپنی ماؤں بہنوں کی بدخوئی کرتے ہیں۔
مسلم معاشرہ کے اکثر افراد بدکار، چالباز اور آوارہ عورتوں کے جال میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے کبھی پوری دنیا میں تعلیمی میدان میں شکست کھاجانے والے ذہین نوجوانوں کے پست ہو جانے کے اسباب پر کبھی غور کیاہے؟ کالجز اور یونیورسٹیز کے آوارہ صفت ماحول کے نتائج پر کبھی غور کیا ہے؟ والدین سے بے رخی کرنے والے بیس سالہ لڑکے کے اسباب کے بارے میںدریافت کیا ہے؟ معاشرے کے اکثر نوجوان شادیوں کے قابل کیوں نہیں رہے؟ شادی کا نام سن کر ان کے رنگ پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ والدین کی طے شدہ نسبتوں کو کیوں ٹھکرا دیا گیا؟ ایک آدمی بچوں کا باپ ہونے، ان کے ناز نخرے پورے کرنے اور ان سے پیارو محبت کے دعوے کرنے کے باوجود اپنے ماں اور باپ کو کیوں بھول جاتا ہے؟ وسعت ہونے کے باوجود اپنے والدین پر خرچ کرنے کے معاملے میں کیوں کنجوسی برتی جاتی ہے؟ … … شاید ان سب سوالوں کے جوابات لفظ عورت پر آ کر رک جائیں۔
یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ خاتون کو ہر ایک کے احسانات یاد ہوتے ہیں، وہ اپنے بھائیوں اور بہنوئیوں کی تعریف کرے گی، وہ اس شخص کی مدح سرائی کرنا بھی نہیں بھولے گی، جس نے خوشی کے موقع پر اس کے بچے کو پانچ سو روپیہ دیا ہو گا، ما سوائے اپنے خاوند کے، جو مہینوں میں اس پر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے منفی پہلو کو سامنے رکھ کر اس کی بغاوت اور احسان فراموشی کی جائے گی، الا ما شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 10043
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فاسق عورتیں ایسا لباس زیبِ تن کرتی ہیں اور (ایسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں) جس کی وجہ سے لوگ اپنی نگاہوں کو ان کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ آج کل بھییہ مصیبت عام ہو گئی ہے کہ عورتیں اونچی ہیل والی جوتیاں پہنتی ہیں اور جوتوں کے نیچے لوہا (وغیرہ) لگواتی ہیں، تاکہ چلتے وقت پٹک پٹک کی خوب آواز ہو۔ شایدیہودیوں نے یہ چیز ایجاد کی ہو، جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے جوتوں اور لباسوں سے اجتناب کریں۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۴۸۶) خواتین کی ہر چیز جاذب نظر اور پر کشش بنا دی گئی ہے، یہاں تک کہ برقعوں پر بہت ڈیزائننگ کر دی گئی، دیدہ زیب لباس بنا دیئے گئے ہیں،خوشبو کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے، زیب و زینت، بناؤ سنگھار اور حسن و جمال کے بہت اسباب پیدا کر دئیے گئے ہیں، صرف جوتوں کے ڈیزائنوں سے ہر چیز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10044
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْفُسَّاقُ قَالَ النِّسَاءُ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عورتوں کے لیے بڑی عبرت کا درس موجود ہے، کاش عورتیں اپنے خاوندوں کے احسانات کو سامنے رکھ کر شکر گزار اور احسان مند بن جاتیں، جبکہ وہ ان سے مستغنی بھی نہیں ہو سکتیں۔
حدیث نمبر: 10045
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا ہے اور آج کی طرح سخت منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ کسی نے کہا: کیایہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تو زمانہ بھر کسی عورت کے ساتھ احسان کرتا رہے، لیکن پھر بھی جب وہ تجھ میں قابل اعتراض چیز دیکھے گی تو کہے گی: میں نے کبھی بھی تیرے پاس بھلائی نہیں پائی۔
حدیث نمبر: 10046
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَجٍّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا) قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والے کوے کی طرح بہت کم۔
وضاحت:
فوائد: … جس طرح سرخ چونچ اور سرخ پنجوں والے کوے تعداد میں دوسرے کوووں کی بہ نسبت بہت کم ہوتے ہیں،یہی معاملہ مذکورہ بالا عورتوں کا ہے کہ جنت میں جانے والی خواتین بہت کم ہوں گی۔
حدیث نمبر: 10047
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔
حدیث نمبر: 10048
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى إِحْدَاهُمَا قَالَ فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِهِ عِمَامَتَهُ وَقَالَتْ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِكَ قَالَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔