کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تعریف کی ناجائز صورتیں
حدیث نمبر: 10034
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ أَحَدًا وَحَسِيبُهُ اللَّهُ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6061، ومسلم: 3000 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20693»
حدیث نمبر: 10035
- (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ، عَنْ أَبِيهِ) أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ، إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20758»
حدیث نمبر: 10036
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ هَكَذَا يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمِ التُّرَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی تعریف کی اور انھوں نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم تعریف کرنے والوں کو پاؤ تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10036
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صححيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 5769، وابن ابي شيبة: 9/7، والطبراني في الكبير : 13589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5684»
حدیث نمبر: 10037
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ أَتَقُولُهُ صَادِقًا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً قَالَ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمُ الْيُسْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10037
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 427، والطبراني في الكبير : 20/ 706 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20614»
حدیث نمبر: 10038
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ فَقَالَ لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10038
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2663، 6060، ومسلم: 3001 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19928»
حدیث نمبر: 10039
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْثُو فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ احْثُوا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مجاہد کہتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے عراق سے ایک وفد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، جب وہ لوگ آئے تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے ان کے چہروں پر مٹی پھینکی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ امام سفیان نے اپنی روایت میں کہا: سیدنا مقداد نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکو۔ پھر زبیر راوی نے کہا: سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 1159، والطبراني: 20/ 570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24325»
حدیث نمبر: 10040
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْثِي فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے دو مفاہیم پیش کیے ہیں:(۱)زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ راوی ٔ حدیث سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کیا، وگرنہ (۲) اگر تاویل کی جائے تو اس کا معنییہ ہوگا کہ تعریف کرنے والے کو ناکام و نامراد بنا دیا جائے، اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جائے، تعریف کرنے کی وجہ سے اسے کچھ نہ دیا جائے، تاکہ اس کی زجر و توبیخ ہو سکے اور اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ باقی تمام تاویلوں میں بُعد پایا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ تعریف کرنے والے کو مادِح اور جس کی تعریف کی جائے اس کو مَمدُوح کہتے ہیں۔)امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: کسی کی تعریف کرنے میں چھ آفات پائی جاتی ہیں، چار کا تعلق مادح سے ہے اور دو کا ممدوح سے۔
(۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار
کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی)
قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10040
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 3002 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24329»
حدیث نمبر: 10041
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ أَوْ صُمْتُهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز اس طرح نہ کہے کہ اس نے سارے رمضان کا قیام کیا ہے یا سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں۔ راوی کہتا ہے:یہ بات مجھے سمجھ نہ آ سکی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ بندہ اپنا تزکیہ نہ کرے، یا کوئی اور ارادہ تھا، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ غفلت اختیار کی جائے، یا سویا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10041
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، عنعنة الحسن البصري، أخرجه ابوداود: 2415، والنسائي: 4/ 130 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20677»