حدیث نمبر: 10027
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اس نے ظاہر ی اور باطنی ہر قسم کی بری چیزکو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت تعریف زیادہ پسند ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جب خاوند اپنی بیوییا بیٹی کے پاس کوئی غیر آدمی دیکھتا ہے تو اس میں جلن پیدا ہوتی ہے، اسی کو غیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے کہ وہی اس کا خالق،ربّ اور مالک ہے، اسی کا کھاتا، پیتا اور پہنتا ہے، لیکن اس کے باجود یہ اس کی نافرمانی کرتاہے۔
حدیث نمبر: 10028
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ وَزَادَ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔
حدیث نمبر: 10029
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُنْشِدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ أَمَا إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْمَدْحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔کے ذریعے میں نے اپنے ربّ کی تعریف کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تیرا ربّ تعریف کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 10030
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا أَنْتَ وَلِيُّنَا وَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا وَأَنْتَ أَفْضَلُ عَلَيْنَا فَضْلًا وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ فَقَالَ قُولُوا قَوْلَكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ قَالَ وَرُبَمَا قَالَ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرجۂ اتم ان سے متصف تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تعریف کی جائے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10031
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ فَقَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرَّنَّهُ الشَّيْطَانُ أَوِ الشَّيَاطِينُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔
وضاحت:
فوائد: … جب لفظ سردار کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گی تو اس کی شان و عظمت کے لائق اس کا معنی ہو گا اور جب اس کی نسبت بندوں کی طرف ہو گی تو ان کی حیثیت کے مطابق اس کا معنی کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: ((اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ)) … میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10032
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاءَةِ أَوِ النَّبَاوَةِ شَكَّ نَافِعٌ مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زہیر ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 10033
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ وَيُثْنُونَ عَلَيْهِ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! کسی آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا بھی سخت منع ہے، مدح سرائی کا خواہش مند ہونا بھی قابل مذمت ہے اور ریاکاری کرنا بھی باعث ِ ہلاکت ہے، تو پھر اس حدیث میں مذکورہ خوشخبری کون سی ہے؟ دراصل یہ مدح سرائی اس محبت کا اثر ہے، جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اپنے خاص بندے کے لیے الہام کر دیتا ہے، جبکہ وہ آدمی خلوص کے ساتھ اور لوگوں سے بے پروا ہو کر عمل بھی کرتا ہے اور اپنے سامنے تعریفی کلمات سننا بھی گوارہ نہیں کرتا، اس کے باوجود جب وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ لوگ اپنی مجلسوں میںیا ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تذکرۂ خیر کرتے ہیں تو وہ اس کو اپنے حق میں خوشخبری سمجھتا ہے، لیکن ریاکاری، عجب پسندی، تکبر اور خودنمائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔