کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
حدیث نمبر: 10024
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ تَخَتُّمَ الذَّهَبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ قَالَ جَرِيرٌ إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ نَتْفَهُ وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحَلِّهِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: (۱) سونے کی انگوٹھی، (۲) تہبند کو گھسیٹنا، (۳) صفرہ یعنی خلوق خوشبو، (۴) سفید بالوں کو تبدیل کر دینا،یعنی ان کو اکھاڑ دینا، (۵) مادۂ منویہ کو اس کے محل سے دور گرانا یعنی عزل کرنا، (۶) معوذات کے علاوہ دم کرنا، (۷) بچے میں فساد پیدا کرنا، لیکن اس کام کو حرام نہیں قرار دیا، (۸) تمیمے لٹکانا، (۹) بے محل موقع پر عورت کا زینت اختیار کرنا اور (۱۰) نرد کھیل کے مہرے مارنا۔
وضاحت:
فوائد: … بچے میں فساد پیدا کرنے سے مراد غیلہ ہے، یعنی خاوند کا اپنی بیوی سے اس وقت جماع کرنا، جب وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
یہ روایت ضعیف ہے اور ان امور کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10024
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن حرملة الكوفي، قال البخاري: لم يصح حديثه،يعني ان عبد الرحمن لم يسمع ابن مسعود، وقاسم بن حسان، قال ابن حجر: مقبول، يعني عند المتابعة والا فھو لين الحديث، أخرجه ابوداود: 4222، والنسائي: 7/ 141 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4179»
حدیث نمبر: 10025
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِيَّاكَ مِنَ الْفِرَارِ يَوْمَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دس امور کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تونے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرانا، اگرچہ تجھ کو قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے، ہر گز والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھ کو حکم دیں کہ تو اپنے اہل و مال سے نکل جائے، جان بوجھ کر ہر گز فرضی نماز کو ترک نہیں کرنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر فرضی نماز ترک کر دی، اللہ تعالیٰ کا ذمہ اس سے بری ہو جائے گا، تو نے ہر گز شراب نہیں پینی، کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی جڑ ہے، نافرمانی سے بچنا، کیونکہ نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے، لڑائی والے دن بھاگنے سے بچنا ہے، اگرچہ لوگ مر رہے ہوں، جب لوگ کثرت سے موت میں مبتلا ہو رہے ہوں، جبکہ تو ان میں موجود ہو تو تو نے ثابت قدم رہنا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب سکھانے کے لیے اپنی لاٹھی کو ان سے دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَوْصَانِی خَلِیلِی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ ((لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَتْرُکْ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَہَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، اگرچہ تجھ کو کاٹ دیا جائے اور جلا دیا جائے، تو جان بوجھ کر فرضی نماز نہ چھوڑ، کیونکہ جو آدمی جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا، اس سے (اللہ کا) ذمہ بری ہو جائے گا اور شراب نہ پی، کیونکہ وہ ہر شرّ کی چابی ہے۔ (ابن ماجہ: ۴۰۲۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10025
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير لم يدرك معاذا، ولبعضه شواھد، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 20/ 156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22425»
حدیث نمبر: 10026
عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِيُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قِصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشَرَةٍ عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعْلَامِ وَأَنْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِثْلَ الْأَعَاجِمِ وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبْسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حصین ہیثم بن شُفَی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا ابو عامر نامی ایک ساتھی (بیت المقدس کے شہر) ایلیا میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، میرے ساتھی کا تعلق یمن کے مقام معافر سے تھا، ان کا واعظ ازدی تھا، اس کو ابو ریحانہ کہتے تھے اور وہ صحابی تھا، ابو حصین کہتے ہیں: میرا ساتھ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گیا، پھر جب میں مسجد میں پہنچا تو اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، انھوں نے مجھ سے سوال کیا: کیا تم نے سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کے قصے سنے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: میں نے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دس چیزوں سے منع کیا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، بغیر لباس کے مرد کا مرد کے ساتھ لیٹنا، اسی طرح بغیر لباس سے عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنا، مرد کا اپنے کپڑوں کے نچلی طرف اور کندھوں پر عجموں کی طرح (ریشم) ڈالنا، ڈاکہ زنی، چیتوں کے چمڑے کی زین وغیرہ بنا کر اس پر سوار ہونا اور حکومت والے بندے کے علاوہ دوسرے لوگوں کا انگوٹھی پہننا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون النھي عن اتخاذ الأعلام من الحرير اسفل الثياب، والنھي عن لبوس الخاتم الا لذي سلطان، وھذا اسناد ضعيف، لجھالة حال ابي عامر المعافري، أخرجه ابوداود: 4049، والنسائي: 8/ 143 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17341»