کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 10022
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے: سود کھانے والا، سود کھلانے والا، اس کے دو گواہ، اس کو لکھنے والا، خوبصورتی کے لیے گودنے والی اور گدوانے والی، زکوۃ نہ دینے والا، حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے بھی منع کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10022
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1935، والترمذي: 1119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 844»
حدیث نمبر: 10023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَعَنَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قُلْتُ إِلَّا مِنْ دَاءٍ قَالَ نَعَمْ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَقَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود کھانے والا، کھلانے والا، اس کے معاملے کو لکھنے والا اور اس کا گواہ، گودنے والی، گدوانے والی، حلالہ کرنے والا، وہ شخص کہ جس کے لیے حلالہ کیا جائے، زکوۃ کو روکنے والا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے منع کرتے تھے۔ راوی نے نوحہ کے لیے لعنت کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ابن عون نے کہا: کیا بیماری کی وجہ سے گدوانا جائز ہے؟ امام شعبی نے کہا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10023
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف الحارث الاعور ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1120»