کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 10019
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا تَشْتَرِطِ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیع نجش نہ کرو، باہمی قطع تعلقی سے بچو، کسی چیز میں باہم مقابلہ نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد کرنے سے بچو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، شہری دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10019
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مختصرا مسلم: 2563 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10657»
حدیث نمبر: 10020
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گودنے والیوں پر، گدوانے والیوں پر، بال جوڑنے والیوں پر، بال جروانے والیوں پر، حلالہ کرنے والے پر، اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے، سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جلد میں سوئی وغیرہ چبھو کر خون نکالنا اور پھر اس جگہ پر سرمہ یا نیل وغیرہ بھر دینا تاکہ وہ جگہ سیاہیا سبز ہو جائے، اسے گودنا کہتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ اپنے حسن و جمال میں بزعم خود اضافہ کرنے کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں کمی بیشی کر کے رد وبدل کرنا ممنوع اور حرام ہے۔ تاہم بالوں پر مہندییا کوئی اور رنگ لگانا جائز ہے، ماسوائے سیاہ رنگ کے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۰/۳۷۲۔ ۳۷۳) میں کہا: خوبصورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ ڈالنے والیاں:حدیث ِ مبارکہ کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل اس وقت قابل مذمت ہو گا، جب اسے حسن کی خاطر کیا جائے، اگر علاج وغیرہ کروانے کے لیے ایسا کرنا پڑجائے تو جائز ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے والیاں: یہ ہر اس فرد کی صفت ِ لازمہ ہے جو گودنے یا گدوانے، ابروؤں کے بال اکھاڑنے یا اکھڑوانے، بال لگانے یا لگوانے یا دانتوں میں شگاف ڈالنے کا کام کرتاہے۔
علامہ عینی نے (عمدۃ القاری: ۲۲/ ۶۳) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت پڑنے کا سبب یہی ہے کہ یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ اس بحث سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ غماری کا قول ساقط اور فاسد ہے، اس نے اپنے رسالے (تنویر البصیرۃ ببیان علامات الکبیرۃ: صـ ۳۰) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت کو تبدیل کرنے کا
مصداق وہ چیز ہے، جس کا اثر باقی رہتا ہے، مثلا گودنا یا گدوانا یا دانتوں میں شگاف ڈالنا، یا وہ چیز جو دوبارہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہو، مثلا ابروؤں کے بال اکھاڑنا، کیونکہیہ دوبارہ کافی دنوں کے بعد اگنا شروع ہوتے ہیں۔رہا مسئلہ داڑھی کو مونڈنے کا، تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کے ساتھ نہیں ہے، کیونکہ دوسرے دن بال اگ آتے ہیں …
میں (البانی) کہتا ہوں: شیخ غماری کا یہ فرق کئی پہلوؤں سے باطل ہے: اوّلًا: … یہ محض دعوی ہے، کتاب وسنت کی کوئی دلیل اور کوئی قول اس پر دلالت نہیں کرتا، لوگ کہتے تھے: والدعاوی ما لم تقیموا علیھا
بینات ابناؤھا ادعیاء
جن دعووں پر تم دلائل پیش نہیں کر سکتے، (ان کی حیثیت) منہ بولے بیٹوں جتنی ہوتی ہے۔
ثانیاً: … یہ دعوی حدیث کے الفاظ بال جوڑنے والیاں کے مخالف ہے، کیونکہ بال جوڑنا اُس گودنے یا گدوانے کی طرح تو نہیں ہے جو سرے سے زائل نہ ہوتا ہو یا آہستہ آہستہ زائل ہو جاتا ہو، بالخصوص وگ کی صورت میں، کیونکہ اسے تو یوں جلدی سے زائل کیا جا سکتا ہے، جیسے ٹوپی اتار لی جاتی ہے۔
ثالثاً: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی للہ عنہ نے پیشانی کے بال مونڈنے پر انکار کیا اور اسی حدیث سے دلیل پکڑی، جیسا کہ ہیثم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مونڈنے اور اکھاڑنے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ بالوں کو اکھاڑنا ابروؤں کے بالوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، جیسا کے بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے، آپ خود سوچیں۔
رابعاً: … شیخ غماری کی رائے متقدمین کہ فھم کے مخالف ہے، حافظ ابن حجر کا قول گزر چکا ہے، اس سے زیادہ واضح اور مفید قول امام طبری کا ہے، انھوں نے (۱۰/۳۷۷) کہا: اللہ تعالیٰ نے جس صورت پر عورت کو پیدا کیا، وہ حسن و جمال کی خاطر اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتی ہے، یہ تبدیلی خاوند کے لیے کی جائے یا کسی اور مقصد کے لیے۔ مثلا ابروؤں کے ملے ہوئے بالوں کے درمیان سے کچھ بال زائل کر کے ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا، زائد دانت کو اکھاڑنا، لمبے دانت کو کٹوانا، ٹھوڑییا اوپر والے ہونٹ یا نیچے والے ہونٹ کے نیچے اگے ہوئے بالوں کو نوچنا، سر کے بالوں کے ساتھ اور بال لگا کر ان کو لمبا کرنایا گھنا کرنا۔ یہ ساری صورتیں نہی میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت اور تخلیق کو بدلنے کے مترادف ہیں۔ ہاں اگر کسی کو جسم کے کسی حصے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اسے زائل کرنا جائز ہے، مثلا ایسا زائد یا طویل دانت جو کھانا کھانے سے مانع ہو …
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر آپ امام طبری کے اس کلام پر غور کریں، تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ غماری کا قول باطل ہے۔ (صحیحہ: ۲۷۹۲)
جو مرد اپنے رخساروں اور گردن کے بال کو صاف کرتے یا اکھاڑتے ہیں، کیا ان کا یہ فعل بھی لعنتی ہے؟ اگر علت اور سبب کو دیکھا جائے تو اس کے فعل کو لعنتی کہا جائے گا، کیونکہ وہ بھی حسن تلاش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10020
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه النسائي: 6/ 149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4284»