حدیث نمبر: 10015
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ)) قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے زمین کے نشانات بدلے، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کیلیے ذبح کیا، اللہ ایسے غلام پر لعنت کرے جس نے اپنے آقا کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا مالک بنایا، اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے اندھے کو رستے سے بھٹکا دیا، اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے چوپائے سے بدفعلی کی اور اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے قومِ لوط والا فعل کیا۔
وضاحت:
فوائد: … مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، خدا کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔ اس حدیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے، زمین کے نشانات بدلنے، نابینے کو رستہ بھٹکانے، والدین کو برا بھلا کہنے، غلام کا اپنے آقا کو بدلنے، چوپائے سے بدفعلی کرنے اور لواطت یعنی مرد کا مرد سے برائی کرنے کی قباحت و شناعت کا بیان ہے کہ ایسے بدنصیبوں کے حق میں لعنت کی بددعا کی گئی ہے۔
زمین کے نشانات سے مراد دو مختلف مالکوں کی زمینوں کے درمیان حد فاصل اور راستوں کی علامتیں اور سنگ ِ میل ہیں۔ یہ حدیث اسلام کی عالمگیریت اور ہر دور سے اس کی مکمل ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگرچہ زمانہ قدیم میں بھی مسافر کی صحیح راہنمائی کے لیے شاہراہوں پر کچھ نشانات لگائے جاتے تھے، بہرحال عصر حاضر کی پختہ سڑکوں پر موڑوں کی نشاندہی، فاصلوں کے تعین، اترائی و چڑھائی کی نشاندہی اور مختلف آبادیوں اور شہروں کے نام اور ان کی طرف تیروں کے نشانات نے اس حدیث ِ مبارکہ کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری باتیہ ہے کہ عہد پارینہ کی بہ نسبت زمین کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس لیے حدبندی زیادہ ضروری امر ہو گیا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے ایسی پابندیاں روزِ اول سے ہی نافذ کر دی تھیں۔ نیز سنگ ِ میل وغیرہ کو بدلنا اور اندھے کو غلط راستے پر لگادینا اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام نے احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں لواطت کی قباحت کا بیان ہے، زمین کے کئی خطوں میں بسنے والے لوگ اس غیر فطرتی اور انتہائی گندے فعل میں مبتلا ہیں، بہرحال ایسا کرنے والے ملعون ہیں اوراسلام کے نزدیک ان کی سزا قتل ہے۔
زمین کے نشانات سے مراد دو مختلف مالکوں کی زمینوں کے درمیان حد فاصل اور راستوں کی علامتیں اور سنگ ِ میل ہیں۔ یہ حدیث اسلام کی عالمگیریت اور ہر دور سے اس کی مکمل ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگرچہ زمانہ قدیم میں بھی مسافر کی صحیح راہنمائی کے لیے شاہراہوں پر کچھ نشانات لگائے جاتے تھے، بہرحال عصر حاضر کی پختہ سڑکوں پر موڑوں کی نشاندہی، فاصلوں کے تعین، اترائی و چڑھائی کی نشاندہی اور مختلف آبادیوں اور شہروں کے نام اور ان کی طرف تیروں کے نشانات نے اس حدیث ِ مبارکہ کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری باتیہ ہے کہ عہد پارینہ کی بہ نسبت زمین کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس لیے حدبندی زیادہ ضروری امر ہو گیا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے ایسی پابندیاں روزِ اول سے ہی نافذ کر دی تھیں۔ نیز سنگ ِ میل وغیرہ کو بدلنا اور اندھے کو غلط راستے پر لگادینا اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام نے احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں لواطت کی قباحت کا بیان ہے، زمین کے کئی خطوں میں بسنے والے لوگ اس غیر فطرتی اور انتہائی گندے فعل میں مبتلا ہیں، بہرحال ایسا کرنے والے ملعون ہیں اوراسلام کے نزدیک ان کی سزا قتل ہے۔
حدیث نمبر: 10016
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَالْمُشَاغَرَةِ وَالْمُكَامَعَةِ وَالْوِصَالِ وَالْمُلَامَسَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان امور سے منع فرمایا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، شغار، مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا، عورت کے بال کے ساتھ مزید بال ملانا اور بیع ملامسہ۔