حدیث نمبر: 10009
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِيعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
حدیث نمبر: 10010
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
حدیث نمبر: 10011
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعْنَهُ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کو اِسْعَاد کہتے ہیں، دورِ جاہلیت میں خواتین نوحہ کرنے میں باقاعدہ ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اسلام میں تو سرے سے نوحہ سے ہی منع کر دیا۔
عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔
عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 10012
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ نِكَاحَيْنِ سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنوں کے روزے سے، دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرمایا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے اور بھانجی اور اس کی خالہ کو اور بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِيَّ وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيَسْتَعْتِبُ)) فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیال یہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میں نکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوفوں کی حکومت ، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاگا کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔
حدیث نمبر: 10014
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمْرِ إِلَّا خَيْرًا)) قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشَأً يَنْشَؤُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوفوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔