حدیث نمبر: 9995
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ الْأَرْبَعِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ منافق ہو گا اور جس میں ان چار میں سے ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ کر جائے اور جب جھگڑا کرے تو گالی نکالے۔
وضاحت:
فوائد: … ان چار خصلتوں کا تعلق منافق کے اعمال سے ہے۔
حدیث نمبر: 9996
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ التَّعْيِيرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ وَالْأَنْوَاءُ وَأَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ، امورِ جاہلیت میں سے ہیں، لوگ ان کو بالکل نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب پر طعن کرنا، (۲) میت پر نوحہ کرنا، (۳) ستاروں کا معاملہ اور (۴) یہ کہنا کہ ایک اونٹ کو خارش لگی، پس اس نے سب کو خارش لگا دی،یہ تو بتاؤ کہ پہلے کو کس نے خارش لگائی؟
حدیث نمبر: 9997
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى غِلَافِهِ وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقُرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتِ الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دل چار قسم کے ہوتے ہیں: (۱) خالص اور صاف دل، جو چراغ کی طرح روشن ہوتا ہے، (۲) پردے میں بند دل، جس سے پردہ ہٹ ہی نہیں سکتا، (۳) الٹا کیا ہوا دل اور (۴)دو رُخا دل۔ ان کی تفصیل یہ ہے: صاف دل سے مراد مومن کا دل ہے، اس کا چراغ اس کا نور ہے، پردے میں بند دل کافر کا ہوتا ہے، الٹا ہوا دل اس منافق کا ہوتا ہے، جو حق کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیتا ہے اور دو رُخا دل وہ ہوتا ہے، جس کے اندر ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال سبزی کیسی ہے کہ پاکیزہ پانی جس کو بڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے کہ جو پیپ اور خون کی وجہ سے بڑھتاہے، ان دو میں سے جس کی بڑھوتری غالب آ جاتی ہے، سو وہ غالب رہتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … الٹے ہوئے دل سے مراد یہ ہے کہ ایسا سمجھیں کہ دل کو برتن کی طرح الٹا کر دیا گیا اور اس میںموجود خیر نکل گئی، اس سے مراد منافق کا ارتداد ہے، یا اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر بات کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 9998
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْتَنِي وَأَيْنَقْنَنِي قَالَ عَفَّانُ وَأَنْقَنَنِي نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجٌ أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ النَّحْرِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَقَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار چیزیں سنی، انھوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور مجھے حیران کر دیا ، (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت دو دنوں کی مسافت کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا کوئی محرم ہونا چاہیے، (۲)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز سے منع فرمایا، نمازِ فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، (۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کے دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، نیز (۴) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پالان نہ کسے جائیں، ما سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور یہ مسجد نبوی۔
حدیث نمبر: 9999
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكْنَ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے چار امور کو نہیں چھوڑا جائے گا، حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا، اگر نوحہ کرنے والی خاتون نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو اس کو قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کر دیا جائے گا کہ اس پر گندھک کا لباس ہو گا یا خارش کی قمیص ہو گی۔
حدیث نمبر: 0
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و ممات کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔