حدیث نمبر: 9975
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کو حرام قرار دیا ہے، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، والدین کا نافرمان اور وہ دیوث جو اپنے گھر کے اندر برائی کو برقرار رکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اپنے گھر والے افراد کے بارے میں غیرت نہ رکھنے والے کو دیوث کہتے ہیں، دوسرے الفاظ میں دیوث کا معنی بے غیرت ہے۔
حدیث نمبر: 9976
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ثَلَاثٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِالرِّجَالِ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ بِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والے،مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی خاتون اور دیوث اور اللہ تعالیٰ بروز قیامت تین افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا۔
حدیث نمبر: 9977
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ثَلَاثٌ إِذَا كُنَّ فِي الرَّجُلِ فَهُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ إِنْ حَدَّثَ كَذَبَ وَإِنْ وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِنِ ائْتُمِنَ خَانَ وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يَزَلْ يَعْنِي فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جب وہ کسی آدمی میں پائی جائیں گی تو وہ خالص منافق ہو گا، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی مخالفت کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے، اور جس فرد میں ان میں ایک خصلت ہو گی تو اس میں وہ دراصل نفاق کی خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … ان تین برائیوں کا تعلق منافقوں کے اعمال سے ہے۔
حدیث نمبر: 9978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ النِّيَاحَةُ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ)) وَكَذَا قُلْتُ لِسَعِيدٍ وَمَا هُوَ قَالَ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے تین امور ہیں، اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے، نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح جاہلیت کی پکار پکارنا کہ اے آلِ فلاں، اے آلِ فلاں۔
حدیث نمبر: 9979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ((ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔
حدیث نمبر: 9980
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ وَلَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنے والا اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔
حدیث نمبر: 9981
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
وضاحت:
فوائد: … قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
حدیث نمبر: 9982
عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا فَقَالَ ((لَا هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)) ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصَ لَنَا فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔
وضاحت:
فوائد: … جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔
حدیث نمبر: 9983
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ)) قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ قَالَ ((نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو آدمی شراب پر ہمیشگی والی حالت پر مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: غوطہ کی نہر سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زانی عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والی نہر ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو تکلیف دے گی۔
حدیث نمبر: 9984
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ خَسِرُوا وَخَابُوا قَالَ فَأَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ ((الْمُسْبِلُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلْفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ وَالْمَنَّانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے نہ کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو خسارہ پانے والے اور ناکام ہونے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار وہی بات دوہرائی اور پھر فرمایا: کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتلانے والا۔
حدیث نمبر: 9985
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرَ وَالدَّيْنَ وَالْغُلُولَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی روح اس حال میں اس کے جسم سے جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، ایک تکبر، دوسری قرض اور تیسری خیانت۔
حدیث نمبر: 9986
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈی یا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہی یعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔
حدیث نمبر: 9987
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثَةٌ لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُتَابِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتِ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّؤُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔
وضاحت:
فوائد: … کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔
حدیث نمبر: 9988
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ} وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے دیوان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک دیوان کی تو کوئی پروا نہیں کرتا، ایک دیوان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان کو معاف نہیں کرے گا۔ پس وہ دیوان جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے گا۔جس دیوان میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کی پروا نہیں کرے گا، وہ بندے کا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، اس چیز کا تعلق اس کے اور اس کے ربّ کے مابین ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک دن کا روزہ ترک کر دیا اور ایک نماز چھوڑ دی، پس بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کو بخش دے گا اور اس سے تجاوز کر جائے گا، اور جس دیوان میں اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا، ان میں لامحالہ طور پر قصاص لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 9989
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جس آدمی میں وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزیکرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔