حدیث نمبر: 9962
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سخت کنجوسی اور سخت بزدلی کسی آدمی میں پائی جانے والی بدترین صفات ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کنجوسی اور بزدلی، انسان کی کمینگی پر دلالت کرنے والی گھٹیا صفات ہیں، ایسی صفات دنیا چاہنے والوں کو دنیا میں بھی ذلیل کر دیتی ہیںاور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہیں گے۔
حدیث نمبر: 9963
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى (وَفِي رِوَايَةٍ) مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سرکشی کی جن شہوتوں کا سب سے زیادہ ڈر ہے، ان کا تعلق تمہارے پیٹوں، شرمگاہوں، گمراہ کرنے والی خواہشوں اور فتنوں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نفس کی خواہش کے مطابق دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑ جانا، نوع بنوع ماکولات اور قسما قسم کے مشروبات کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ لینا، وہ حلال ہوں یا حرام اور شہوت کو پورا کرنے کے لیے زنا کرنا۔
اگر پوری دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے توتقریبا تمام سرمایہ دار کھانے پینے کی لذتوں کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے مہنگے ہوٹلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، رات ایک دو دو بجے تک ہوٹلنگ ہوتی رہتی
ہے، کوئی شام کا کھانا کھانے کے لیے شہر سے بیس کلو میٹر دور جا رہا ہے، کوئی آئس کریم کا لطف اٹھانے کے لیے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہے، بلکہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے کھانے کی چیزیں منگواتے ہوئے پایا گیا ہے، ایک ایک دعوت کے موقع پر پانچ چھ چھ ڈشیں دکھائی دیتی ہیں، جس ہوٹل پر جائیںسینکڑوں کھانوں پر مشتمل مینیو سامنے رکھ دیا جاتا ہے، بیس پچیس منٹ تو یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کس کھانے کا انتخاب کیا جائے۔ غرضیکہ جس چیزکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈر تھا، وہ اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔
رہا مسئلہ زنا جیسی لعنت کا تو اسلام کا دعوی کرنے والوں کی خاصی تعداد اس کمینگی میں مبتلا ہو چکی ہے، بعض ممالک کا تو نام لے کر ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے اکثر وبیشتر باشندے بے حیا ہو چکے ہیں۔
اگر پوری دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے توتقریبا تمام سرمایہ دار کھانے پینے کی لذتوں کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے مہنگے ہوٹلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، رات ایک دو دو بجے تک ہوٹلنگ ہوتی رہتی
ہے، کوئی شام کا کھانا کھانے کے لیے شہر سے بیس کلو میٹر دور جا رہا ہے، کوئی آئس کریم کا لطف اٹھانے کے لیے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہے، بلکہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے کھانے کی چیزیں منگواتے ہوئے پایا گیا ہے، ایک ایک دعوت کے موقع پر پانچ چھ چھ ڈشیں دکھائی دیتی ہیں، جس ہوٹل پر جائیںسینکڑوں کھانوں پر مشتمل مینیو سامنے رکھ دیا جاتا ہے، بیس پچیس منٹ تو یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کس کھانے کا انتخاب کیا جائے۔ غرضیکہ جس چیزکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈر تھا، وہ اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔
رہا مسئلہ زنا جیسی لعنت کا تو اسلام کا دعوی کرنے والوں کی خاصی تعداد اس کمینگی میں مبتلا ہو چکی ہے، بعض ممالک کا تو نام لے کر ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے اکثر وبیشتر باشندے بے حیا ہو چکے ہیں۔