کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کے اشعار کا بیان
حدیث نمبر: 9953
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ لَهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ نَعَمْ شِعْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
حدیث نمبر: 9954
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
وضاحت:
فوائد: … پورا شعر یوں ہے: سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
حدیث نمبر: 9955
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُنْشِدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔
حدیث نمبر: 9956
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔