کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
حدیث نمبر: 9948
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے عظیم شعر یہ ہے: اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … باطل سے مراد فنا ہونے والی چیز ہے، یہ شعر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے: {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔} … ہر ایک جو اس(زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔ (سورۂ رحمن:۲۶، ۲۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9948
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبدالرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: في حديثه مناكير، أخرجه ابوداود: 3869 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9072»
حدیث نمبر: 9949
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9949
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9907»
حدیث نمبر: 9950
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْتٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ اشعار کہے تھے: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9950
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجه الدارمي: 2703، وابويعلي: 2482، وابن خزيمة: 1/ 202 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2314»
حدیث نمبر: 9951
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ قَالَ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهْ إِيهْ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے اشعار پڑھیں، پس انھوں نے سو قافیے سنائے، جب بھی وہ ایک شعر مکمل کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور پڑھو، اور پڑھو۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ یہ شخص مسلمان ہو جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9951
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2255 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19693»
حدیث نمبر: 9952
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ الشَّرِيدُ كُنْتُ رَدِيفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَنْشِدْنِي فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي كُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا إِيهْ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَكَتُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید پر مشتمل اشعار سنے ہیں، حالانکہ یہ غیر مسلموں کے مرتب تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9952
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19696»