کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9927
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (منہ پھاڑ پھاڑ کر تکلف و تصنّع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح بار بار پھیرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تصنع کے ساتھ منہ بھر کر، رگیں پھلا کر، باچھیں کھول کر اور بڑھکیں مار مار کر بات کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، ایسے لوگ بال کی کھال اتارتے ہیں، لایعنی بحثیں کرتے ہیں، ماورائے عقل باتوں میں دخل دیتے ہیں، مبالغہ کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت چھانٹتے ہیں اور سامعین و حاضرین سے داد وصول کرنے کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔ جبکہ شریعت ِ اسلامیہ سادگی، تواضع اور قدرتی انداز کو پسند کرتی ہے، شریعت کا تقاضا ہے کہ قول و فعل میں غلو نہ کیا جائے اور تمام معاملات سادگی کے ساتھ نبٹائے جائیں۔
قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔
قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 9928
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ فَقَالَ هُمُ الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو فضول بولنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔ نیز کیا تمہیں تمہارے بہترین افراد کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہہے۔
حدیث نمبر: 9929
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے، جو شعروں کی طرح کلام کی شقیں نکالتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9930
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، انھوں نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور پھر بیٹھ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کرنے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے، پس لوگوں کو ان کی گفتگو سے بڑا تعجب ہوا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! (طبعی انداز میں اور بغیر کسی تکلف اور تصنّع کے) اپنا مدّعا بیان کر دیا کرو، پس بیشک کلام کی شقیں نکالنا شیطان کی طرف سے ہے ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9931
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اہل مشرق سے دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے اور انھوں نے ایسے انداز میں خطاب کیا کہ لوگ تعجب میں پڑ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں، بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بیان کی دو قسمیں ہیں: (۱) وہ بیان جس سے گفتگو کرنے والے کی مراد واضح ہو جائے، زبان کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ (۲) وہ بیان جس کے الفاظ کو اہتمام کے ساتھ خوبصورت بنایا جائے اور تکلف کے ساتھ بولا جائے، تاکہ سامعین کے دل خطیب کی طرف مائل ہو جائیں اور وہ اس کے فن پر حیران و ششدر ہو کر رہ جائیں، ایسا بیان قابل تعریف بھی ہو سکتاہے اور قابل مذمت بھی، اگر اس کے ذریعے حق کی تائید کی جائے اور لوگوں کو سچائی کی طرف لے جائے تو وہ قابل تعریف ہو گا، اور اگر اس کے ذریعے باطل کو رواج دیا جائے اور قبیح کو خوبصورت کر کے پیش کیا جائے تو وہ قابل مذمت ہو گا، بیچ میں خطیب کو یہ فکر بھی کرنا پڑے گی کہ آیا اس کے خطاب میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی بدبو تو نہیں آ رہی۔
حدیث نمبر: 9932
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ ذَرَاعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي قَالَ فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصَرٌ لَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا خَصَّنَا اللَّهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَأَنْ فَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معن بن یزیدیا سیدنا ابو معن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں جمع ہو جاؤ، جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے بتلانا۔ پس ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے، یہاں تک کہ ہمارے پاس بیٹھ گئے، پھر ہم میں سے ایک مقرر نے کلام کیا اور کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا، یا اس قسم کی بات کی، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہو کر چلے گئے، ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کیا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے ہم کو خاص کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور اب یہ کچھ ہو گیا۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ چل پڑے،یہاں تک کہ اسی مقام میں یا اس کے قریب بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اب یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس تعریف کو موجودہ وقت سے پہلے بنائے یا اس کے بعد، اور بیشک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں حکم دیئے، ہم سے کلام کیا اور ہمیں بعض امور کی تعلیم دی۔
وضاحت:
فوائد: … جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کی تعریف پر اقتصار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ موضوع آگے بڑھے گا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گے، کیونکہ وہ تعریف کا حقیقی مستحق ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جائے گی، تو اس سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ یہ تھی کہ اس متکلم نے کلام میں مبالغہ کیا اور حمد کو اس طرح بند کر دیا کہ اس کے نکلنے کی جگہ ہی نہیں رہی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اس کا طریقہ بتلایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ یہ تھی کہ اس متکلم نے کلام میں مبالغہ کیا اور حمد کو اس طرح بند کر دیا کہ اس کے نکلنے کی جگہ ہی نہیں رہی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اس کا طریقہ بتلایا۔
حدیث نمبر: 9933
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہو گی، جب تک ایسے لوگ نہ نکل آئیں، جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زبان کے ذریعے کمائی کرنے کو پیشہ بنا لیں گے اور تکلف کے ساتھ بڑھکیں مارتے ہوئے زبان کو ایسے چلائیں گے، جیسے چرتے وقت گائے کی زبان نظر آتی ہے۔
حدیث نمبر: 9934
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ وَقَالَ مَرَّةً رَجُلٌ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ النَّاسُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرَّ النَّاسِ الَّذِي يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اسے دیکھ کر) فرمانے لگے: اس آدمی کو اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے۔ پھر جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا، جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا،(ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت والے دن مرتبہ کے اعتبار سے بدترین لوگ وہ ہوں گے کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے لوگ ان سے لاتعلق ہو جائیں۔ ایک روایت میں ہے: بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے ان کی عزت کی جاتی ہو۔
حدیث نمبر: 9935
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ وَلَمْ يَهَشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ لِلْآخَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنِ الُّقِيَ لِفُحْشِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ خوشی اور بے تکلفی سے پیش آئے، پھر وہ آدمی چلا گیا، اتنے میں ایک دوسرا آدمی آ گیا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا بہترین آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ نہ اس طرح بے تکلفی سے پیش نہ آئے، جیسے پہلے سے آئے تھے اور نہ اس کے ساتھ خوش ہوئے، جب وہ یہ آدمی بھی چلا گیا تو میں (عائشہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فلاں آدمی نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اس کو خاندان کا برا آدمی قرار دیا، لیکن پھر اس کے ساتھ خوش اور بے تکلفی سے پیش آئے اور فلاں آدمی کے بارے میں تبصرہ تو اچھا کیا، لیکن اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا، جو پہلے سے کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بالاتفاق غیبت حرام ہے۔ امام نووی نے کہا: کسی صحیح شرعی مقصد کے لیے غیبت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس مقصد تک اس کے بغیر پہنچنا ناممکن ہو۔ جواز کی چھ صورتیں ہیں، (تلخیص کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں): ۱۔ دست درازی کا ہونا: مظلوم کے لیے جائز ہے کہ بادشاہ یا قاضی کے سامنے اپنے ظالم کی زیادتی کا تفصیلی بیان کرے۔
۲۔ خلافِ شرع امور کو روکنا اور برائیوں کے مرتکب کو راہِ راست پر لانے کے لیے مدد حاصل کرنا: مثلا برے آدمی کی برائی کا کسی ایسے آدمی کے سامنے تذکرہ کرنا، جس کو غالب گمان کے مطابق اسے اس برائی سے روکنے پر قدرت حاصل ہو۔
۳۔ فتوی طلب کرنا: جیسے کوئی مظلوم کسی مفتی کے پاس جا کر کہے کہ میرے باپ یا بھائی وغیرہ نے مجھ پر یوں ظلم کیا ہے، کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے اور میرے حق میں شریعت کا کیافیصلہ ہے؟
۴۔ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا: جیسے سند کے راویوں پر جرح کرنا،کسی مسئلہ میں گواہی دینے والے فاسق گواہوں کے فسق و فجور کی وضاحت کر دینا۔
۵۔ جو آدمی کھلم کھلا فسق و فجور اور بدعت کا ارتکاب کر رہا ہو، جیسے کوئی علانیہ شراب نوشی کر رہا ہو یا ظلماً ٹیکس وصول کر رہا ہو یا باطل کاموں کی سرپرستی کر رہا ہو، وغیرہ، وغیرہ۔ ایسے لوگوں کے جرائم بیان کرنا جائز ہے تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
۶۔ معروف نام سے پکارنا: مفاہیم و معانی کے اعتبار سے کوئی لقب اچھا نہ ہو، لیکن اگر کوئی آدمی اس لقب کے ساتھ مشہور ہو گیا ہو تو اس لقب کے ساتھ اسے پکارنا جائز ہے۔ جیسے: اعمش (چندھا)، اعرج (لنگڑا)۔ لیکن توہین و تنقیص کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ (ریاض الصالحین: باب بیان مایباح من الغیبۃ)
اس باب کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیبت کی مثال پیش کی ہے، یہ جواز کی کون سی صورت سے متعلق ہے؟ امام بخاری کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی ظاہری حالت سے دھوکہ کھا جائیں۔ معلوم ہوا کہ جو شخص برے کردار کا حامل ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس جائیں گے، جس سے ان کے دین اور دنیا دونوں یا کسی ایک کا نقصان ہو جائے گا، ایسے شخص کی غیبت کرنا جائز ہو گی۔ اس اعتبار سے یہ جواز کی چوتھی صورت معلوم ہوتی ہے۔
اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس برے آدمی کا اس انداز میں تذکرہ کر کے اس میں پائے جانے والی برائی کی قباحت و شناعت بیان کرنا چاہتے ہوں، تاکہ دوسرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ غیبت سے اس برائی کی سنگینی کو بھانپ لیں اور عبرت حاصل کریں اور اس بدی سے محفوظ رہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ نیک آدمییہ انداز اختیار کر سکتا ہے، جس کا اس قسم کا طعنہ لوگوں کے لیے باعث ِ عبرت ہو اور ان کو فکر مند کر دینے والا ہو۔
۲۔ خلافِ شرع امور کو روکنا اور برائیوں کے مرتکب کو راہِ راست پر لانے کے لیے مدد حاصل کرنا: مثلا برے آدمی کی برائی کا کسی ایسے آدمی کے سامنے تذکرہ کرنا، جس کو غالب گمان کے مطابق اسے اس برائی سے روکنے پر قدرت حاصل ہو۔
۳۔ فتوی طلب کرنا: جیسے کوئی مظلوم کسی مفتی کے پاس جا کر کہے کہ میرے باپ یا بھائی وغیرہ نے مجھ پر یوں ظلم کیا ہے، کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے اور میرے حق میں شریعت کا کیافیصلہ ہے؟
۴۔ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا: جیسے سند کے راویوں پر جرح کرنا،کسی مسئلہ میں گواہی دینے والے فاسق گواہوں کے فسق و فجور کی وضاحت کر دینا۔
۵۔ جو آدمی کھلم کھلا فسق و فجور اور بدعت کا ارتکاب کر رہا ہو، جیسے کوئی علانیہ شراب نوشی کر رہا ہو یا ظلماً ٹیکس وصول کر رہا ہو یا باطل کاموں کی سرپرستی کر رہا ہو، وغیرہ، وغیرہ۔ ایسے لوگوں کے جرائم بیان کرنا جائز ہے تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
۶۔ معروف نام سے پکارنا: مفاہیم و معانی کے اعتبار سے کوئی لقب اچھا نہ ہو، لیکن اگر کوئی آدمی اس لقب کے ساتھ مشہور ہو گیا ہو تو اس لقب کے ساتھ اسے پکارنا جائز ہے۔ جیسے: اعمش (چندھا)، اعرج (لنگڑا)۔ لیکن توہین و تنقیص کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ (ریاض الصالحین: باب بیان مایباح من الغیبۃ)
اس باب کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیبت کی مثال پیش کی ہے، یہ جواز کی کون سی صورت سے متعلق ہے؟ امام بخاری کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی ظاہری حالت سے دھوکہ کھا جائیں۔ معلوم ہوا کہ جو شخص برے کردار کا حامل ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس جائیں گے، جس سے ان کے دین اور دنیا دونوں یا کسی ایک کا نقصان ہو جائے گا، ایسے شخص کی غیبت کرنا جائز ہو گی۔ اس اعتبار سے یہ جواز کی چوتھی صورت معلوم ہوتی ہے۔
اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس برے آدمی کا اس انداز میں تذکرہ کر کے اس میں پائے جانے والی برائی کی قباحت و شناعت بیان کرنا چاہتے ہوں، تاکہ دوسرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ غیبت سے اس برائی کی سنگینی کو بھانپ لیں اور عبرت حاصل کریں اور اس بدی سے محفوظ رہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ نیک آدمییہ انداز اختیار کر سکتا ہے، جس کا اس قسم کا طعنہ لوگوں کے لیے باعث ِ عبرت ہو اور ان کو فکر مند کر دینے والا ہو۔