کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9923
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مجتہدین میں اختلافِ رائے تو یقینی ہے، اس حدیث میں مذکورہ اختلاف سے مراد اس کی ناجائز صورت ہے یا ایسا اختلاف مراد ہے، جو ناجائز صورت تک پہنچا دیتا ہے، جیسے نفس قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا یا ایسے معنی میں اختلاف کرنا جس میں سرے سے اجتہاد ہی جائز نہ ہو یا ایسا اختلاف جو شک و شبہ اور فتنہ و فساد کا باعث بنے۔
شارح ابودود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں شک کرنا، یا اس موضوع پر غور و خوض کرنا کہ یہ کتاب محدَث ہے یا قدیم،یا متشابہ آیات میں مجادلانہ انداز میں بحث مباحثہ کرنا۔ ان سب امور کا نتیجہ انکار اور کفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یا قرآن مجید کی سات قراء ت پر مناظرہ کرنا اور کسی ایک قراء ت کو حق تسلیم کر لینا اوردوسری کو باطل یا تقدیر والی آیات پر غیر ضروری بحث کرنا یا ان آیات کو موضوعِ بحث بنا کر مضامینِ قرآن میں ٹکراؤ پیدا کرنا، جن کے معانی میں ظاہری طور پر تضاد پایا جاتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۶۰۳ کے تحت، مفہوم پیش کیا گیا)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں موافقت پیدا نہ کر سکے تو اس کو اپنے علم و فہم کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ} … (سورۃ النسائ: ۵۹)!
پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … (سورۃ النسائ: ۷۸) کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {مَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ} … (سورۃ النسائ: ۷۹) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔
(اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۃ الشوریٰ: ۳۰) … تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔)
لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا ہے، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے بیان کیا گیا)۔
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذا: ضَرَبُوا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُ اللّٰہِ یُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضَا،فَـلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَاعَلِمْتُمْمِنْہُفَقُوْلُوا،وَمَاجَھِلْتُمْفَکِلُوْہٗاِلٰی عَالِمِہِ۔)) … تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے ایک حصے کی وجہ سے اس کے دوسرے حصے کو نہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کے سپرد کر دو۔ (احمد، ابن ماجہ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 529 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10419»
حدیث نمبر: 9924
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح کہ وہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیںیا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (سورۂ زخرف: ۵۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9924
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه وشواھده، أخرجه الطبراني: 8067 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22557»
حدیث نمبر: 9925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9925
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، ومنصورُ بن آذِين مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8615»
حدیث نمبر: 9926
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالوہو۔
وضاحت:
فوائد: … مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَأِنْ کَانَ مُحِقًّا۔)) (ابوداود) … میں اس شخص کے لیے جنت کی اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا: ۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9926
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26223»