کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9910
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، اگرچہ وہ اس جھگڑے میں سچا ہی کیوں نہ ہو۔
وضاحت:
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمُ بَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا وَبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَإِنْ کَانَ مَازِحاً وَبَیْتٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُہُ۔)) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں، جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دیا (اور اپنے حق سے دستبردار ہو گیا) اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میںایک گھر کا ضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لیے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہوا۔ (ابوداود: ۴۸۰۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9910
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، ومنصورُ بن آذِين مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8615»
حدیث نمبر: 9911
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ تَعَالَ هَاكَ ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ فَهِيَ كَذْبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے بچے سے کہا: اِدھر آ اور یہ چیز لے لے، پھر اس کو وہ چیز نہیں دی تو یہ جھوٹ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9911
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9835»
حدیث نمبر: 9912
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا وَأَنَا صَبِيٌّ قَالَ فَذَهَبْتُ أَخْرُجُ لِأَلْعَبَ فَقَالَتْ أُمِّي يَا عَبْدَ اللَّهِ تَعَالَ أُعْطِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ قَالَتْ أُعْطِيهِ تَمْرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا، جب میں کھیلنے کے لیے جانے لگا تو میری ماں نے کہا: اے عبد اللہ! ادھر آ، میں تجھے کچھ دینا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں اس کو کھجور دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اس کو کچھ نہ دینا ہوتا تو یہ تیرا ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … ماں کی گودبچے کی پہلی تعلیم گاہ اور تربیت گاہ ہے، اسی ادارے میں فطرتیں سنورتییا بگڑتی ہیں، اگرچہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فطرت کے تحفظ کے لیے اتنے سخت اقدامات کئے کہ جھوٹ کی حقیقت سے ناواقف بچے کے ساتھ جھوٹ بولنے کو بھی جرم قرار دیا، اسی فطرت کو سالم رکھنے کے لیے بچے کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، غور فرمائیں کہ ہمارے ہاں دس سال کی عمر کے بچے پر نماز فرض نہیں ہوتی، کیونکہ وہ نابالغ ہوتا ہے، لیکنیہ اس کی فطرت کے حفاظتی اقدامات کے تقاضے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس برس کی عمر کے بعد بچے کو نماز کی عدمِ ادائیگی پر زدو کوب کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چائیے کہ ان نبوی سنہری اصولوں کی روشنی میں اپنے بچوں کے قلوب و اذہان کی تعمیر کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4991 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15793»
حدیث نمبر: 9913
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ثُمَّ يَكْذِبُ لِيُضْحِكَهُمْ وَيْلٌ لَهُ وَوَيْلٌ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہے، جو لوگوں سے بات کرتا ہے اور ان کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عوام تو کجا، خواص بھی مذاق میں جھوٹ بولنے اور جھوٹے واقعات بیان کرنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4990 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20270»
حدیث نمبر: 9914
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مِنَ الثُّرَيَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اپنے ہم مجلسوں کو ہنسانے کے لیے ایسی بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ثریا ستارے سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9914
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 5716 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9209»
حدیث نمبر: 9915
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ وہ اس میں حرج بھی محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے آگ میں ستر سال کی مسافت تک گر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، أخرجه الترمذي: 2314 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7214»
حدیث نمبر: 9916
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ يَرْفَعُهَا إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی ایسی بات کر جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھسل کر آگ میں اتنی دوری تک چلا جاتا ہے، جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ مذاق میں ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں نکالتے ہیں، ایک دوسرے کو عیسائی،یہودی اور کراڑ تک کہہ دیتے ہیںاور سنتوں کا مذاق کرتے ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اختیار کرے اور شریعت نے تفریح کے اسباب کی جتنی اجازت دی ہے، ان ہی پر اکتفا کرے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9916
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8909»
حدیث نمبر: 9917
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ فَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی ایک بات کرتا ہے،وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہنسائے، پس وہ اس کی وجہ سے آسمان تک کی مسافت سے بھی دور تک جا گرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9917
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2988 (8923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11351»
حدیث نمبر: 9918
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضِحْكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ عَلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور پھر لوگوں کو گوز مار کر ہنسنے کے بارے میں وعظ کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اس چیز پر کیوں ہنستا ہے ، جو وہ خود بھی کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خاص طور پر جب کسی کی نادانستہ طور پر ہوا خارج ہو جائے، تو ہم مجلس ایسی سنجیدگی اختیار کریں کہ یوں لگے کہ ان کو اس حرکت کا علم ہی نہیں ہوا، تاکہ متعلقہ بندے کو شرمندگی نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2855 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16324»
حدیث نمبر: 9919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا: أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه البيھقي: 10/ 248 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8462»
حدیث نمبر: 9920
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْمَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9920
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4998، والترمذي: 1991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13853»
حدیث نمبر: 9921
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ فَقَالَ أَطْعِمْنِي فَقَالَ لَا حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا فَقَالَ لَأُغِيظَنَّكَ فَجَاءَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا فَقَالَ ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا وَهُوَ ذُو لِسَانٍ وَلَعَلَّهُ يَقُولُ أَنَا حُرٌّ فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي فَقَالُوا بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ دُونَكُمْ هُوَ هَذَا فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا قَدِ اشْتَرَيْنَاكَ قَالَ سُوَيْبِطٌ هُوَ كَاذِبٌ أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ وَطَرَحُوا الْحَبْلَ فِي رَقَبَتِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَ فَذَهَبَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ فَرَدُّوا الْقَلَائِصَ وَأَخَذُوهُ فَضَحِكَ مِنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تجارت کی غرض سے بصری کی طرف نکلے، سیدنا نعیمان اور سیدنا سویبط رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، یہ دونوں بدری صحابی تھے، زادِ سفر سیدنا سویبط رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، انھوں نے کہا: جی نہیں،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آجائیں۔ سیدنا نعیمان بہت زیادہ ہنسانے والے اور مذاق کرنے والے آدمی تھے، پس انھوں نے کہا: میں تجھے ضرور ضرور غصہ دلاؤں گا، پس وہ ایسے لوگوں کے پاس گئے جو سواریاں لے کر جا رہے تھے اور ان سے کہا: تم لوگ مجھ سے ایک پھرتیلا اور چست عربی غلام خرید لو، البتہ وہ زبان دراز ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ تو آزاد شخص ہے، اگر اس کی اس بات کی وجہ سے تم نے اس کو چھوڑ دینا ہے تو پھر سودا ہی رہنے دو اور مجھ پر میرے غلام کو خراب نہ کرو، انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تجھ سے دس اونٹنیوں کے عوض خریدیں گے، پس سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ اس ساتھی کو کھینچ کر لے آئے اور اس کو لوگوں کے سامنے لا کر باندھ دیا اور ان کو کہا: یہ لو، وہ غلام یہ ہے، پس لوگ آئے اور انھوں نے اس سے کہا: ہم نے تجھے خرید لیا ہے، سیدنا سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جھوٹا ہے، میں تو آزاد آدمی ہوں، انھوں نے کہا: اس نے ہمیں تیری ساری بات بتلا دی ہے، پھر انھوں نے اس کی گردن میں رسی ڈالی اور اس کو لے گئے، اتنے میں اُدھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور انھوں نے ان کو واقعہ کی خبر دی، پس وہ اور ان کے ساتھی گئے اور ان کی اونٹنیاں واپس کر کے اس کو واپس لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک سال تک اس واقعہ سے ہنستے رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9921
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح، أخرجه ابن ماجه: 3719 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27222»
حدیث نمبر: 9922
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ اور وہ ان کے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔
وضاحت:
فوائد: … ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔
خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔
دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 3443 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23567»