کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 9895
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أَكْذَبُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ وَالصَّبَّاغُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے سنار اور رنگ ساز ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9895
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف، واحاديثه مناكير، أخرجه ابن ماجه: 2152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7907»
حدیث نمبر: 9896
عَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أَكْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا کاریگر اور ہنر مند ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پچھنے لگانے والے، قصاب،سنار، کاریگر،رنگ ساز اور دوسرے ہنر مند لوگوں کے پیشے جائز اور درست ہیں، ان کو ناپسندیدہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ سینگی لگانے والے اور قصاب کو گندے امور میں ملوث رہنا پڑتا ہے اور دوسرے پیشوں اور صنعتوں والوں کی اکثریت دھوکہ اور ملاوٹ کرتی ہے اور ان کا معاملہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کا مصداق ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9896
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي ھريرة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9285»