حدیث نمبر: 9888
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَّابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، پس بیشک جھوٹ برائیوں کی طرف لے جاتا ہے اور برائیاں جہنم کی طرف لے جاتی ہیں اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کو تلاش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جھوٹ منافقانہ روش ہے، اس کا انجام جھوٹے آدمی سے نفرت کی صورت میں نکلتا ہے۔ جہاں صدق و صفا جیسے خصائل جنت کا سبب بنتے ہیں، وہاں جھوٹ اور دروغ گوئی جیسی قبیح عادتیں متعلقہ بندے کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بحیثیت کذّاب پیش کرتی ہیں۔
جھوٹ اس لحاظ سے ایک ممتاز گناہ ہے کہ یہ جھوٹے آدمی کو کئی معصیتوں اور نافرمانیوں پر آمادہ کرتا ہے، جھوٹا آدمی وعدہ خلافیاں کر کے متعلقہ بندے کو اپنی مجبوریوں کی جھوٹی کہانیاں سنا کر مطمئن کر دے گا اور ایسے شخص کو بندوں سے متعلقہ کوئی گناہ کرتے وقت ندامت یا فکر نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
َِجھوٹ جیسے گناہ کی سنگینی کا اندازہ اس کی وجہ سے ہونے والے عذاب سے ہوتا ہے، جیسا کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک طویل خواب سنایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت و نعمت اور عذاب و عقاب کے مختلف مناظر دکھائے گئے، اس خواب کا ایک اقتباس یہ ہے: ((وَاَمَّا الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِیُشَرْشَرُ شِدْقُہٗاِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخَرُہٗاِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنُہٗ اِلٰی قَفَاہُ، فَاِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُوْ مِنْ بَیْتِہٖ فَیَکْذِبُ الْکَذْبَۃَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ۔)) … اور وہ آدمی جس کے پاس سے آپ گزرے، جس کے جبڑے نتھنے اور اس کی آنکھ کو اس کی گدی تک چیرا جا رہا تھا، یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے، جو دنیا کے کناروں تک پھیل جاتا ہے۔ (صحیح بخاری) عَافَانَا اللّٰہُ تَعَالٰی۔
جھوٹ اس لحاظ سے ایک ممتاز گناہ ہے کہ یہ جھوٹے آدمی کو کئی معصیتوں اور نافرمانیوں پر آمادہ کرتا ہے، جھوٹا آدمی وعدہ خلافیاں کر کے متعلقہ بندے کو اپنی مجبوریوں کی جھوٹی کہانیاں سنا کر مطمئن کر دے گا اور ایسے شخص کو بندوں سے متعلقہ کوئی گناہ کرتے وقت ندامت یا فکر نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
َِجھوٹ جیسے گناہ کی سنگینی کا اندازہ اس کی وجہ سے ہونے والے عذاب سے ہوتا ہے، جیسا کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک طویل خواب سنایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت و نعمت اور عذاب و عقاب کے مختلف مناظر دکھائے گئے، اس خواب کا ایک اقتباس یہ ہے: ((وَاَمَّا الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِیُشَرْشَرُ شِدْقُہٗاِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخَرُہٗاِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنُہٗ اِلٰی قَفَاہُ، فَاِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُوْ مِنْ بَیْتِہٖ فَیَکْذِبُ الْکَذْبَۃَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ۔)) … اور وہ آدمی جس کے پاس سے آپ گزرے، جس کے جبڑے نتھنے اور اس کی آنکھ کو اس کی گدی تک چیرا جا رہا تھا، یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے، جو دنیا کے کناروں تک پھیل جاتا ہے۔ (صحیح بخاری) عَافَانَا اللّٰہُ تَعَالٰی۔
حدیث نمبر: 9889
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَةَ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کے ہاں سب سے ناپسندیدہ وصف جھوٹ بولنا تھا، جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جھوٹ بول دیتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں اس وقت تک اس چیز کا احساس رہتا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ علم نہ ہو جاتا کہ اس شخص نے اس گناہ سے توبہ کر لی ہے۔
حدیث نمبر: 9890
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی بات بیان کی، جبکہ اس کا خیالیہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی بھی بات بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچی ہو اورخیر پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 9891
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن ہر قسم کے فعل کا عادی بن سکتا ہے، ما سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمن کے اندر ہر قسم کے شرّ اور خیرکا معاملہ ہو سکتا، ما سوائے خیانت اور جھوٹ کے، یعنییہ دو گناہ مومن کے شایان شان نہیں ہیں، سو ہر صورت میں اس کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي زَوْجًا وَلِي ضَرَّةٌ وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي أَقُولُ أَعْطَانِي كَذَا وَكَسَانِي كَذَا وَهُوَ كَذِبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ہے اور میری ایک سوکن بھی ہے، میں اپنے خاوند کے بارے میں یوں اظہار کرتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی ہے، اس نے مجھے اس طرح کا کپڑا لا کر دیا ہے، تو کیایہ جھوٹ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو جو چیز نہ دی گئی ہو، لیکن پھر بھی وہ اس کے دیئے جانے کا اظہار کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … جھوٹ کے دو کپڑے پہننے سے مراد یہ ہے کہ گویا جھوٹ نے اس بندے کے سارے بدن کو ڈھانپ لیا ہے، وہ اپنے حق میں ایسی چیز کا اظہار کر رہا ہے، جو اس کی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9893
عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((كَبُرَتْ خِيَانَةً تُحَدِّثُ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهِ كَاذِبٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایک بات کرے اور وہ تیری تصدیق کرنے والا ہو، جبکہ تو اس کے ساتھ جھوٹ بولنے والا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کسی آدمی کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔
حدیث نمبر: 9894
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا قَالَ ((إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی کسی چیز کو چاہتی تو ہو، لیکن وہ اس کے بارے میں کہے کہ وہ نہیں چاہتی، تو کیااس کو بھی جھوٹ لکھا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے، یہاںتک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ لکھا جاتا ہے۔