حدیث نمبر: 9882
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چغلی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ((نَقْلُ الْحَدِیْثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إلٰی بَعْضٍ، لِیُفْسِدُوْا بَیْنَھُمْ۔)) … لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے بعض کی باتیںبعض کو بیان کرنا۔
(بیہقی: ۱۰/۲۴۶)
ایک روایت میں ہے: ((اَلنَّمِیْمَۃُ الَّتِیْ تُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) … وہ چغلی جو لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دے۔
عصرِ حاضر میں ہر کوئی اپنے آپ کو بریٔ الذمہ اور معصوم قرار دے کر دوسرے پر شکوہ کناں نظر آتا ہے، شرعی تقاضا یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی شخص کو موضوعِ گفتگو بنانے لگیں تو سوچ لینا چاہئے کہ آخر اس کلام کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی بھائی پر جارحانہ کلام کرنے سے اس کے بارے میں سامعین کے دلوں میں نفرت و کدورت تو پیدا نہیں ہو گی اور اس سے بڑا معاشرتی فساد اور بگاڑ کوئی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں سوئے ظن پیدا کر دیا جائے۔
چغلی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
(بیہقی: ۱۰/۲۴۶)
ایک روایت میں ہے: ((اَلنَّمِیْمَۃُ الَّتِیْ تُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) … وہ چغلی جو لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دے۔
عصرِ حاضر میں ہر کوئی اپنے آپ کو بریٔ الذمہ اور معصوم قرار دے کر دوسرے پر شکوہ کناں نظر آتا ہے، شرعی تقاضا یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی شخص کو موضوعِ گفتگو بنانے لگیں تو سوچ لینا چاہئے کہ آخر اس کلام کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی بھائی پر جارحانہ کلام کرنے سے اس کے بارے میں سامعین کے دلوں میں نفرت و کدورت تو پیدا نہیں ہو گی اور اس سے بڑا معاشرتی فساد اور بگاڑ کوئی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں سوئے ظن پیدا کر دیا جائے۔
چغلی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 9883
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ قَالَ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو یہ بتلا نہ دو کہ عَضْہ کیا ہے؟ یہ لوگوں کی آپس میں چغل خوری والی باتیں ہیں۔ نیز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو سچا لکھ لیا جاتا ہے اور اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9884
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَاءَ الْعَنَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے پسندیدہ لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کو دیکھنے سے اللہ یاد آ جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے شریر لوگوں کے بارے میں بتلا دوں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو چغلخور ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان فساد برپا کرتے ہیں اور (عیوب سے) بری لوگوں کے لیے غلطیاں تلاش کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9885
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صؒی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: بے شک ان کو بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 9886
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَقَسَمَهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تقسیم کیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! اس تقسیم سے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ارادہ نہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور نہ آخرت کا گھر، پھر میں نے مزید توجہ کی اور ان کی باتیں سن لیں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے توہمیں یہ فرمایا تھا کہ کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے۔ لیکن اب بات یہ ہے کہ میں فلاں فلاں کے پاس سے گزرا اور وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ہم کو، پس موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔
حدیث نمبر: 9887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ فَقَالَ قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَ هُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کی کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بات محسوس کی ہوئی ہے، (بات اتنی سخت تھی کہ) میرا نفس مجھ پر قابو نہ پا سکا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا، میں نے تو چاہا کہ اس بات کے فدیے میں اپنا سارا اہل و مال قربان کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ ایذا دی، لیکن انھوں نے صبر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ ایک نبی کو اس کی قوم نے جھٹلایا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو زخمی کر دیا، اب وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔