کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9874
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مطلب بن عبدالملک بن حنطب سے مرسلًا روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَجُلاً سَألَ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَاالْغِیْبَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أنْ تَذْکُرَ مِنَ الْمَرْئِ مَایَکْرَہُ أنْ یَسْمَعَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإنْ کَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذٰلِکَ الْبُھْتَانُ۔)) … ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کی ایسی بات بیان کرنا، جس کو وہ سننا نا پسند کرے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ بات حق (اور درست) ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے (کسی کے بارے میں) غیر حق بات کی تو وہ تو بہتان ہو گا (نہ کہ غیبت)۔ (موطا امام مالک: ۳/۱۵۰، صحیحہ: ۱۹۹۲)
اس میں غیبت اور بہتان دونوں کے معنی و مفہوم اور شناعت و قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کامیابی اور کامرانی کے لیے ہمارے سامنے ایک معیار رکھ دیا ہے کہ ہم کسی پر تبصرہ کرنے لگیں تو پہلے غور کریں کہ آیا اُس آدمی کی موجودگی میں یہ گفتگو کی جا سکتی ہے، اگر نہیں کی جا سکتی ہے تو فوراً رک جانا چاہئے۔
اگر اس روایت کے طرق اور سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لَیْسَ کے الفاظ اس حدیث کا حصہ نہیں ہیں،یہ کسی راوی سے کوئی سہو ہو گیا ہے، ترجمہ میں اس لَیْسَ کے لفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9874
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7146»
حدیث نمبر: 9875
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ) يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی ٹوہ میں نہ لگو، جو ان کے معائب کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں رسوا کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9875
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4880 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20014»
حدیث نمبر: 9876
عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ قِصَرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ اغْتَبْتِهَا مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت کی نقل اتاری اور اس کے کوتاہ قد کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور اس کے عوض میں مجھے اتنا کچھ عطا کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9876
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4875، والترمذي: 2502، 2503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26227»
حدیث نمبر: 9877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ رَجُلًا فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ (يَعْنِي الرَّاوِيَ) كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ مَزَجْتِ (وَفِي لَفْظٍ تَكَلَّمْتِ) بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ مَزَجَتْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقارت آمیز انداز میں ایک عورت کی نقل اتارنا چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کے عیب کا تذکرہ کریںیا از راہِ تنقیص کسی کے فعل یا قول کی نقالی کریں۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث میں غیبت سے سب سے زیادہ ڈانٹا گیا ہے، میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر مذمت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9877
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26075»
حدیث نمبر: 9878
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَإِنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَا هُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا وَأَنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ ثُمَّ عَادَ (قَالَ الرَّاوِي) وَأُرَاهُ قَالَ بِالْهَاجِرَةِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا قَالَ ادْعُهُمَا قَالَ فَجَاءَتَا قَالَ فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا قِيئِي فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى قِيئِي فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَتَا تَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انھوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پیاس کی وجہ سے مرنے لگی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیایا خاموش رہے، اس نے پھر اپنی بات کو دوہرایا اور دوپہر کے وقت کا ذکر بھی کیا اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو مرنے لگی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو بلا۔ پس جب وہ دونوں آئیں تو ایک بڑا پیالہ بھی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا: تو قے کر۔ پس اس نے پیپ یا خون، خون ملی پیپ اور گوشت پر مشتمل نصف پیالے کے بقدر قے کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری خاتون سے فرمایا: اب تو قے کر۔ اس نے پیپ، خون، خون ملی پیپ اور کچے تازہ گوشت پرمشتمل اتنی قے کی کہ پیالہ بھر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو عورتوں نے اس کھانے پینے سے تو روزہ رکھا ہوا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز پر روزہ افطار کر رہی ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9878
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد، أخرجه ابويعلي في مسنده : 1576، والبيھقي في الدلائل : 6/186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24053»
حدیث نمبر: 9879
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارْتَفَعَتْ رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بد بو دار مرداروں کی بو اٹھنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ بد بو کیسی ہے؟ یہ ان لوگوں کی بد بو ہے، جو مؤمنوں کی غیبت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9879
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 732 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14844»
حدیث نمبر: 9880
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ فِي الْغِيبَةِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو آگ سے آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9880
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن زياد، أخرجه الطيالسي: 1632، والطبراني في الكبير : 24/ 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28162»
حدیث نمبر: 9881
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَةً مِنْ أَهْلِ الشَّامِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر غیبت کا معنی و مفہوم سمجھنا مقصود ہو تو درج ذیل مثالوں پر غور کریں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّھُمْ ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجُلاً فَقَالُوْا: لَایَأکُلُ حَتّٰییُطْعَمَ، وَلَا یَرْْْحَلُ حَتّٰییُرْحَلَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اغْتَبْتُمُوْہُ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إنَّمَا حَدَّثْنَا بِمَا فِیْہِ۔ قَالَ: ((حَسْبُکَ إذَا ذَکَرْتَ أخَاکَ بِمَا فِیْہِ۔)) … وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا:وہ اس وقت تک نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور جب تک اُسے سوار نہ کیاجائے وہ سوار بھی نہیں ہوتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اُس کی غیبت کی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے وہی (عیب) بیان کیا ہے جو اس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: (کسی کی غیبت کے لیے) تجھے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کے اس (عیب) کا ذکر کرے جو اس میں ہے۔ (شعب الایمان: ۲/ ۳۰۴)
غور فرمائیں کہ صحابہ کرام نے ایک آدمی کی طبعی سستی اور کاہلی کا ذکر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی غیبت قرار دیا، معلوم ہوا کہ ہمیں کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی قسم کی عیب جوئی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَتِ الْعَرَبُ تَخْدِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فِی الأسْفَارِ، وَکَانَ مَعَ أبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَجُلٌ یَخْدِمُھُمَا، فَنَامَا، فَاسْتَیْقَظَا، وَلَمْ یُھَیِّئْ لَھُمَا طَعَامًا، فَقَالَ أحَدُھُمَا لِصَاحِبِہِ: إنَّ ھٰذا لَیُوَائِمُ نَوْمَ نَبِیِّکُمْ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیُوَائِمُ نَوْمَ بَیْتِکُمْ) فَأیْقَظَاہُ فَقَالَا: ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْ لَہُ: إنَّ أبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یُقْرِئَانِکَ السَّلَامُ، وَھُمَاَ یَسْتَأدِمَانِکَ، فَقَالَ: ((أقْرِئْھُمَا السَّلَامَ، وَأخْبِرْھُمَاأنَّھُمَا قَدِ ائْتَدَمَا)) فَفَزِعَا، فَجَائَ ا إلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعَثْنَا إلْیکَ َنَسْتَأدِمُکَ، فَقُلْتَ: قَدِ ائْتَدَمَا۔ فَبِأیِّ شَیْئٍ ائْتَدَمْنَا؟ قَالَ: ((بِلَحْمِ أخِیْکُمَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إنِّی لَأرٰی لَحْمَہُ بَیْنَ أنْیَابِکُمَا۔)) قَالَا: فَاسْتَغْفِرْلَنَا، قَالَ: ((ھُوَ فَلْیَسْتَغْفِرْلَکُمَا۔)) … عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیاکرتا تھا۔ (ایک دن) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے اُن کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے۔ دونوں نے اُسے جگایا اور کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے اُن دونوں کو سلام کہنا اوران کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیاہے۔ پس ابوبکر وعمریہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے (فلاں آدمی کو) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو، (بھلا) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کا، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اُس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں۔ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہئے۔
(مساویء الأخلاق للخرائطی: ۱۸۶،صحیحہ:۲۶۰۸)
اس حدیث میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم کے بارے میں، جبکہ وہ سویا ہوا تھا، یہ کہا کہ یہ تو سفر میں بھی گھر والی نیند ہی سوتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ پہلے بیدار ہوتا اور ہمارے لیے کھانا تیار کر کے رکھتا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تبصرے کو بھی غیبت شمار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے تمھارے دانتوں میں تمھارے بھائی کا گوشت نظر آ رہا ہے۔ یہ درج ذیل آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا:{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ} (سورۂ حجرات: ۱۲) … اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے، (بلکہ) تم کو تو اس سے گھن ہو گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کی غیبت کی گئی، وہی غیبت کرنے والوں کے لیے بخشش طلب کرے، تاکہ ان کا جرم بے اثر ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9881
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 27، والبيھقي: 6/ 82، وأخرجه ابوداود: 3597 دون قوله: ومن مات وعليه دين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»