حدیث نمبر: 9858
عَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا مَا هُمَا ثُمَّ قَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُهُ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ فَقَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔
وضاحت:
فوائد: … زبان نہ صرف انسان کے احترام و اکرام اور ذلالت و رسوائی کا معیار قرار پا چکی ہے، بلکہ اخروی کامیابی و کامرانی اور ناکامی ونامرادی کا دارو مدار بھی اسی پر ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں زبان کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر حفاظت ِ زبان کا اہتمام نہ کیا گیا تو یہ سارے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو جنت میں داخل کرنے کی بجائے آتش ِ دوزخ کا ایندھن بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نجات کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصولِ نجات کے لیے ان تین امور کا ذکر کیا: ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) (ترمذی) … اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تم کو اپنے اندر سموئے رکھے اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔
معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔
معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔
حدیث نمبر: 9859
عَنْ أَبِي الصَّبْحَاءِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ أَعْضَاءَهُ تُكَفِّرُ اللِّسَانَ تَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّكَ إِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … جہاں زبان کا درست استعمال باعث ِ نجات ہے، وہاںاس کی ذرا سی بے اعتدالی کی سزا پورے جسم کو بھگتنا پڑتی ہے، گوشت کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا باعث ِ سعادت بھی اور باعث ِ شقاوت بھی،یہ باعث ِ عزت بھی ہے اور باعث ِ ذلت بھی۔ زبان بعضوںکو معاشرے کا معزز ترین افراد بنا دیتی ہے اور بعضوں کو ذلیل ترین۔ لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی کا مصداقِ اول زبان ہے۔
قارئین کرام! جسم کے تمام اعضاء پر نظر دوڑائیں، ہر عضو کوئی برا یا اچھا اقدام کرنے سے پہلے منصوبہ بناتا ہے، مثلا نماز ادا کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، تیمار داری کرنا۔ لیکنیہ زبان ہے جو کروٹ بدلتے بدلتے کئی نیکیوںیا کئی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلا اچانک اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تحمیدات وغیرہ کہنا شروع کر دے یا جاتے جاتے
کسی کو گالی دے دے، برا بھلا کہہ دیے، کلمۂ کفر بول دیے، فحش مذاق کر دے، چغلی و غیبت کر دے، جھوٹ بول دیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سچ فرمایا نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ زبان بڑی تیز طرار ہے اور ہر عضو کو اس کی پھرتی کا شکوہ ہے۔
قارئین کرام! جسم کے تمام اعضاء پر نظر دوڑائیں، ہر عضو کوئی برا یا اچھا اقدام کرنے سے پہلے منصوبہ بناتا ہے، مثلا نماز ادا کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، تیمار داری کرنا۔ لیکنیہ زبان ہے جو کروٹ بدلتے بدلتے کئی نیکیوںیا کئی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلا اچانک اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تحمیدات وغیرہ کہنا شروع کر دے یا جاتے جاتے
کسی کو گالی دے دے، برا بھلا کہہ دیے، کلمۂ کفر بول دیے، فحش مذاق کر دے، چغلی و غیبت کر دے، جھوٹ بول دیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سچ فرمایا نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ زبان بڑی تیز طرار ہے اور ہر عضو کو اس کی پھرتی کا شکوہ ہے۔
حدیث نمبر: 9860
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام کا یہ سنہری قانون ہے کہ جس چیز میں مسلمان کا دنیوی اور اخروی فائدہ نہ ہو، وہ اس میں دخل نہ دے، سب سے زیادہ عافیت، سکون اور سلامتی اسی میں ہے۔
حدیث نمبر: 9861
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ (وَفِي لَفْظٍ مُرْنِي فِي الْإِسْلَامِ بِأَمْرٍ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ) قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ (وَفِي لَفْظٍ آمَنْتُ بِاللَّهِ) ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ (وَفِي لَفْظٍ مَا أَكْبَرُ) مَا تَخَافُ عَلَيَّ (وَفِي لَفْظٍ فَأَيُّ شَيْءٍ أَتَّقِي) قَالَ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر پرکھنے کا مزاج شرعی ہو تو یہ حقیقت مشاہدہ شدہ ہو گی کہ اس وقت ہر آدمی کو اس کی زبان کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا ہے، رہی سہی کمی موبائلز کے پیکجز نے پوری کر دی ہے۔ ہر ایک نے گلے شکوے کرنے پر توجہ دھری ہوئی ہے، کوئی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9862
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حدیث نمبر: 9863
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَعْرَابِيًّا بِخِصَالٍ مِنْ أَنْوَاعِ الْبِرِّ (فِيهَا) وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب سے آسان اور کم از کم نیکی کی صورت یہ ہے کہ زبان کو شرّ سے محفوظ رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 9864
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ فَقُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ أَوْ قَالَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، مختلف احکام ومسائل کا بیان ہے، جن کا نتیجہ زبان کی حفاظت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ زبان ایک ایسی چیز ہے کہ اگرآ دمی اس کو احتیاط سے استعمال نہ کرے تو یہ آدمی کو جہنم میںلے جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی اکثر عورتیں جہنم میں صر ف اسی زبان کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے جائیں گی، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جو آدمی دوچیزوں (یعنی ایک زبان اور دوسری شرم گاہ)کی ضمانت دے دے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9865
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا، جب تک اس کا دل اور زبان سلامتی والے نہیں بن جاتے۔‘
حدیث نمبر: 9866
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! کسی مجلس میں بیٹھ کر نوٹ کرنا کہ اس میں کیے گئے کلام کا زیادہ حصہ لہو و لغو، بیہودہ گوئی و فحش گوئی، چغلی و غیبت اور بے مقصد موضوعات پر مشتمل ہو گا، سیاست و سیادت پر گفت و شنید ہو گی، دنیا کے مختلف ممالک کے حالات اور مستقبل پر تبصرے ہوں گے، جن سے نہ ماضی کو سہارا ملتا ہے اور نہ مستقبل کو کوئی امید۔ ہر کوئی اپنے مسائل و مصائب بیان کر کے اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر تلاہوا نظر آئے گا، زبان کا کثرت سے بے جا استعمال ہو گا، حاضرینِ مجلس اپنے مخالفوں کا تذکرہ کر کے ان پر خوب برستے ہیں۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ فارغ اوقات کوایسے اختلاط کی بجائے گھر میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ذکر و فکر اور تلاوت اور بیوی بچوں کے مسائل حل کرنے میں اور ان کی خدمت کے تقاضے پورے کرنے میں صرف کیا جائے۔ اس طرح تنہائیوں میں اپنی خطاؤں اور لغزشوں پر رونا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ ہے، جس کا موقع صرف خلوت میں ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 9867
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيِّ قَالَ خَرَجَ أَبُو الْغَادِيَةِ وَحَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ وَأُمُّ أَبِي الْعَالِيَةِ مُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِيَّاكِ وَمَا يَسُوءُ الْأُذُنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محمد بن عبد الرحمن طفاوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو غادیہ، سیدنا حبیب بن حارث، سیدہ ام ابی العالیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور اسلام قبول کر لیا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز سے بچ، جو کانوں کو بری لگتی ہے ۔
حدیث نمبر: 9868
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَّارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … زبان کی حفاظت مومن کا عظیم وصف ہے، کسی انسان کی شخصیت کا پتہ دینے کے لیے اس کی زبان ہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 9869
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … کفر وشرک، کذب بیانی و دروغ گوئی، لہو و لغویات، گالی گلوچ، سب و شتم، چغلی و غیبت، دوسروں کی توہین، بڑوں کی گستاخی، چھوٹوں سے کرختگی و سختی، والدین کا دل دکھانا، بے راہ روی و بد کاری کی راہ ہموار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری، اس قسم کے سینکڑوں جرائم کا تعلق زبان سے ہے، یہ زبان ہی ہے جس کی وجہ سے صاحب ِ زبان کو کئی مجالس میں ندامت و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ زبان ہی ہے جو باوقار اور سنجیدہ انسانوں کی عظمت و وقار کو مجروح کر دیتی ہے، بہرحال جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، وہ کئی برائیوں سے اجتناب کرنے اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے سے محروم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خطرے والی چیز، جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو، کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زبان کا تعین کیا۔ (ترمذی)
حدیث نمبر: 9870
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ آدمی زبان سے ایسا کلمۂ خیر ادا کرتا ہے کہ جس سے کسی کا دل خوش ہو جاتا ہے یا کسی کی ڈھارس بن جاتا ہے یا کسی کی اصلاح ہو جاتی ہے یا کوئی ظلم و معصیت کے ارادے سے باز آ جاتا ہے، یقینا ایسا کلمہ کہنے والے کے لیے باعث ِ اجرو ثواب ہے۔ لیکن بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بندہ کوئی کلمۂ شرّ ادا کر دیتا ہے کہ جس سے کسی کی دلآزاری ہو جاتی ہے یا کوئی اس کی وجہ سے ظلم و معصیت پر تل جاتا ہے یا وہ ایسے تنازعے کو ہوا دیتا ہے کہ طویل جھگڑا اور قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہےیا وہ کسی کی ضلالت و گمراہی کا داعی بن جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی بات کہنے والے کے لیے باعث ِ وبال و عقاب ہو گی اور اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زبانوں کے سلسلے میں محتاط رہیں۔