کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9847
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دو افراد میں ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابو داود اور امام ترمذی نے اس حدیث کو آداب ِ مجلس میں ذکر کیا ہے، یعنی جب دو آدمی اکٹھے بیٹھے ہوں تو کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان گھس کر بیٹھ جائے، الا یہ کہ وہ اس کو اجازت دے دیں۔
اس حدیث کے الفاظ تو عام ہی ہیں، البتہ میاں بیوی کے حوالہ سے طلاق اور خلع کے مسائل الگ ہیں۔
اس حدیث کے الفاظ تو عام ہی ہیں، البتہ میاں بیوی کے حوالہ سے طلاق اور خلع کے مسائل الگ ہیں۔
حدیث نمبر: 9848
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ هُوَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی خاوند کے حق میں اس کی بیوی کو بگاڑا، وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں جن دو گناہوںکی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کسی گھرانے میں فساد ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ کسی شادی شدہ عورت کے سامنے اس کے خاوند پر ناقدانہ بحث نہ کریں، بلکہ مختلف مثالیں دے کر اسے اپنے گھر پر مطمئن کرنے کی کوشش کریں، تاکہ اس کے دل میں خاوند کا احترام برقرار رہے اور وہ اس کی بغاو ت کرنے سے باز رہے۔ یہی معاملہ خادم کا ہے کہ دوسرا آدمی اس کو زیادہ اجرت کی لالچ دے کر اپنی خدمت پر آمادہ کرے اور اس کے مالک کی بدخوئی کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے حق میں نافرمان اور بد اخلاق ہو جائے۔
حدیث نمبر: 9849
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ اس چیز کو انڈیل دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے، پس بیشک اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی مرد دوسرییا تیسرییا چوتھی شادی کرنا چاہے یا شادی کر لے تو کوئی بیوی کسی دوسری بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 9850
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ وَمَنْ خَبَّبَ عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اسی طرح جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف اور کسی غلام کواس کے آقا کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امانت کے مختلف معانی ہیں، جیسے اطاعت، عبادت، امان، اعتماد وغیرہ۔ بندے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی قسم اٹھائے، امانت تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔