کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 9811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ فَمُرْ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا قَالَ فَأَثْبِتْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی رضی اللہ عنہ آ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوں نے کہا: جی کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21428»
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9812
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6436، 6437، ومسلم: 1049 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3501»
حدیث نمبر: 9813
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9813
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف الا قوله صلي الله عليه وآله وسلم : لَوْ كَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰي وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَاُ فَمَهُ اِلَّا التُّرْابُ فانه صحيح بالشواھد، مجالد ضعيف، أخرجه البيھقي بي شعب الايمان : 10280، والبزار في مسنده : 3640 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24780»
حدیث نمبر: 9814
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12253»
حدیث نمبر: 9815
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البزار: 3636، وابويعلي: 1899، وابن حبان: 3232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14720»
حدیث نمبر: 9816
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»
حدیث نمبر: 9817
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعَفُ جِسْمُهُ وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمْرِ وَالْمَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه ومختصرا منه البخاري: 6420، ومسلم: 1046 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8403»
حدیث نمبر: 9818
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔
وضاحت:
فوائد: … ادھیڑ عمری میں بھییہ شعور نہیں آتا کہ دنیائے فانی سے روانگی کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے، لہٰذا ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول ہو جانا چاہیے، بس دنیا کی طرف سے ملنے والا پروٹوکول اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی اس کا چسقا نہیں بھول پاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6421، ومسلم: 1047 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12166»
حدیث نمبر: 9819
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ أَفْسَدَا لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مال اور شرف کی حرص بندے کے دین میں فساد برپا کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ جائز طریقے سے دنیوی مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اندر اتنی عاجزی و انکساری پیدا کر لے کہ وہ اس چیز کا طلبگار نہ رہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9819
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15876»
حدیث نمبر: 9820
عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكَ دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا فَقَالَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
وضاحت:
فوائد: … جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔
تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے بارے میں
دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی …
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9820
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1155»
حدیث نمبر: 9821
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے جسم کے ایک حصے کو پکڑا اور فرمایا: اے عبدا للہ! دنیا میں ایسے ہو جا، جیسے تو اجنبی یا مسافر ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔
وضاحت:
فوائد: … ذہن نشین رہے کہ یہ مثال اس دور میں پیش کی گئی جب سفر کرنے کا سب سے بڑا سبب اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے تھے، یہ سواریاں دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مہینوں کی مسافتیں پیدل طے کرنا پڑتی تھیں۔ بحری سفر کرنے والے کشتیاںیا پانی میں نہ ڈوبنے والی کوئی چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ دور دور کے سفروں میں سرائے اور ہوٹلوں کی سہولتیں دستیاب نہ تھیںیا بہت کم تھیں۔ مسافروں کو بعض سفروں میںپینے کا پانی بھی اپنے ہمراہ اٹھانا پڑتا تھا۔ پڑاؤ کے دوران چٹانوں، ریت اور مٹی پر سونا پڑتا تھا۔ پگڈنڈیوں، صحراؤں اور کچی سڑکوں پر مشتمل راستے ہوتے تھے، بلکہ بسا اوقات مسافروں کو راستہ بھی خود ایجاد کرنا پڑتاتھا۔ یہ انداز سفر اور طرزِ حیات عہدِ قدیم سے اس سائنسی دور، جس کی ابتدا تقریباً دو صدیاں پہلے ہوئی، تک جاری رہا۔ احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں مستقبل میں جس دور کی پیشین گوئی کیگئی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بالآخر یہ جدید دور ختم ہو جائے اور از سرِ نو پرانے والا دیسی زمانہ شروع ہو جائے گا۔
ممکن ہے کہ موجودہ ترقییافتہ دور میں ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں اور عمدہ لائنوں اور شاہراہوں پر ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹر کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے اور دورانِ سفر جگہ جگہ پر عمدہ ریسٹورینٹ، سرائے اور ہوٹلیں پانے والے اس مثال کی دقت اور مقصود کو نہ سمجھ پائیں۔ اگرچہ آج بھی مسافر تھوڑا سا سازو سامان اور معمولی نقدی کے ہمراہ سفر کرنے کا قائل ہے، ہر کوئی اپنے شہر تک پہنچنے کے لیے جلدی کرتا ہے، ایک سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہوتے، ہر مسافر دوسرے ہر فرد سے خوف اور وحشت محسوس کرتا ہے، ہر کسی کو ڈاکوؤں، چوروں اور حادثات کا خطرہ ستائے رکھتا ہے اور انہی وجوہات کی بنا پر دورانِ سفر اچھے اور صاف ستھرے لباس، وضع قطع اور میک اپ وغیرہ کرنے پر وہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کا اہتمام حضر میں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض خواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران حال و بے حال اور اپنے آپ سے تنگ ہوتے ہیں، لیکن جونہی ان کی منزل قریب آ رہی ہوتی ہے، وہ اپنے لباس اور جسم کو سنوارنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں یہی نقطہ سمجھایا گیا کہ کسی مسافر کا دل سفر میں، وہ جیسا بھی ہو، نہیں لگتا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک دنیا کا ایک سفر سمجھیں اور اس سفر میں دل نہ لگائیں اور اس کو قرآن و حدیث کی ہدایات کے مطابق عبور کر کے اپنے اصلی وطن جنت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
حافظ ابن حجرl نے کہا: اَوْ بمعنی بَلْ ہے، یعنی: دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی ہو، بلکہ مسافر ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عابد و زاہد کو پہلے اس اجنبی اور پردیسی سے تشبیہ دی، جس کی کوئی جائے پناہ اور گھر نہیں ہوتا، پھر بات کو آگے بڑھایا اور مسافر سے تشبیہ دی، کیونکہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ اجنبی آدمی کو پر دیس میں رہائش کے لیے کوئی نہ کوئی گھر مل ہی جاتا ہے، لیکن جس مسافر نے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنا ہو، جبکہ اس کے راستے میں ہلاکت گاہ وادیاں، بے آب و گیاہ مہلِک صحرا اور ڈاکو اور چور بھی ہوں، تو اس کی صورتحال یہ ہو گی کہ وہ دورانِ سفر کہیں بھی لمحہ بھر کے لیے قیام نہیں کرے گا، اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کرتے تھے: اگر شام ہو جائے تو صبح کی انتظار نہ کیا کر اور اگر صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کیا کر اور بیماری کے لیے اپنی صحت میں سے اور موت کے لیے اپنی زندگی میں سے کچھ لے لے۔ نیز وہ یہ بھی کہا کرتے تھے: اپنے آپ کو قبرستان والے مردوں میں شمار کر۔
معنییہ ہوا: اے مسافر! چلتا رہ اور سست نہ پڑ، اگر تو نے سستی کی توراستے میں ہی رہ جائے گا، مہلک وادیوں میں ہلاک ہو جائے گا (اور اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ پائے گا)۔
ابن بطال نے کہا: اجنبی اور پردیسی آدمی دوسرے لوگوں سے بے تکلفی اختیار نہیں کرتا، بلکہ وہ ان سے وحشت زدہ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کم تر اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔ مشکل ہی ہے کہ دورانِ سفر اسے کوئی ایسا آدمی مل جائے، جس سے وہ مانوس ہو جائے۔ یہی معاملہ مسافر کا ہے کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق سفر پر روانہ ہوتا ہے، اپنے ساتھ کم سے کم وزن والا سامان لے کر جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سواری ہونی چاہیے کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ بے تکلفی اختیار نہ کرے، اس سے زیادہ مانوس نہ ہو، اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سامانِ دنیا ہونا چاہیے کہ کسی کے سامنے دست ِ سوال پھیلائے بغیر دنیا کے ایام بیت جائیں)۔
اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنی چاہیے اور گزر بھر، ضرورت بھر اور بقدر کفاف چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس طرح مسافر کوصرف اتنے ساز و سامان اور زادِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس سے اس کا سفر طے ہو جائے اور وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے، اسی طرح مومن کو اتنے دنیوی سازو سامان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کا سفر طے ہو جائے۔
دوسرے شارحین نے کہا: یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے، اس کو حقیر سمجھنے اور اس میں ضرورت بھر اسبابِ زندگی پر قناعت کرنے کی بنیاد ہے۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ دنیا کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرو، اس کو اپنا (مستقل) وطن نہ سمجھو، اس میںاپنی بقا کے بارے میں مت سوچو اور اس سے اتنا تعلق رکھو، جتنا کہ کسی دوسرے وطن میں پردیسی آدمی کا ہوتا ہے۔
بعض نے کہا: مسافر اپنے وطن تک پہنچنے کے لیے راستے پر چل رہا ہوتا ہے۔ دنیا میں بندہ بھی اس آدمی کی طرح ہے، جس کو اس کے آقا نے کسی حاجت کے لیے دوسرے وطن میں بھیجا ہو، اس کی صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ حاجت پوری کر کے اپنے وطن کی طرف لوٹنے میں جلدی کرتا ہے اور کسی دوسری غیر متعلقہ چیز میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا، (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ اس کے آقا یعنی ربّ تعالیٰ نے اسے دنیا میں توشۂ آخرت کی تیاری کے لیے بھیجا، اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے دورانیے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال ذخیرہ کرے اور پھر یہاں سے روانہ ہو کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جائے)۔
کسی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ جس طرح پردیسی آدمی غیر وطن میں عارضی سکونت اختیار کرتا ہے،اپنے مقصد کی تکمیل کی کوشش میں رہتا ہے اور اس کا دل اپنے وطن کے ساتھ معلّق رہتا ہے اور واپس جانے کی سوچتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں آخرت کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے اصل وطن (جنت) کی طرف لوٹ جانے کی سوچ میں رہے۔ یا جس طرح مسافر کسی سرائے میں مستقل سکونت اختیار نہیں کرتا، بلکہ اپنے شہر پہنچنے کے لیے سفر جاری رکھتا ہے، اسی طرح مومن دنیا میں اپنے وطن جنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اعمال صالحہ کا سفر جاری رکھتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۲۸۱) اللہ تعالیٰ شارحین احادیث ِ نبویہ کی مساعی ٔ جمیلہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت نازل فرمائے۔ (آمین)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9821
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، أخرجه الترمذي: 2333، وابن ماجه: 4114، وقوله كن في الدنيا كأنك غيريب او عابر سبيل أخرجه البخاري: 4616 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4764»
حدیث نمبر: 9822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهِ دِينَارَانِ فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا وَلَفَّ عَلَيْهِمَا فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيَّتَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا، جب اس کو اپنے حصے کے دو دینار ملے تو اس نے ان کو اپنی چادر میں رکھا اور سلائی کر کے لپیٹ دیا اور پھر وہ بدّو فوت ہو گیا، جب لوگوں کو اس کے دینار ملے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9822
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، والاحاديث في ھذا المعني ثابتة،منھا الحديث الآتي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8663»
حدیث نمبر: 9823
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ فَأُوذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا فَقَالُوا تَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور پھر فوت ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا وہ کوئی چیز چھوڑ کر فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی اس نے دو دینار چھوڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۸۲۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9823
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 372، وابويعلي: 4997 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3843»