کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9794
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو نہ تکلیف دو، نہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جس نے اپنے بھائی کا عیب تلاش کیا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا حتی کہ وہ اس کو اس کے گھر کے اندر ذلیل کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر، کتنی حرمت ہے صاحب ِ اسلام کی، کاش ہمارا مزاج یہ بن جاتا کہ ہم اپنی اصلاح کرتے اور دوسروں کے مثبت پہلو دیکھ کر ان کی قدر کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9794
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22765»
حدیث نمبر: 9795
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ امْرَأً) اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تیری اجازت کے بغیر تجھ پر جھانکتا ہے اور تو اس کو کنکری مار کر اس کی آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9795
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6902، ومسلم: 2158 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7311»
حدیث نمبر: 9796
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَأُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے دیت ہو گی نہ قصاص۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9796
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8985»
حدیث نمبر: 9797
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھانکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلکا لے کر اس کی طرف جھکے، لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12078»
حدیث نمبر: 9798
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، پس بیشک بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگ جاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، مقابلہ بازی میں نہ پڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمانوں اور مومنوں کا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رشتہ بیان کیا ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا یہ بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمان کا خیر خواہ بنے اور اس کے لیے دل میں وسعت پیدا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9798
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10080»
حدیث نمبر: 9799
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اچھا گمان رکھنا حسنِ عبادت میں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان از خود تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کا موقع نہ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9799
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، قاله زبير علي زئي، أخرجه ابوداود: 4993 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7943»