کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9780
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں تک چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 9781
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا هِجْرَةَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سے زائد دنوں تک کی قطع تعلقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اپنے بھائی سے تین سے زائد دنوں تک قطع تعلقی کیے رکھی، پھر وہ مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جذبات کا خیال رکھتے ہوئے وعید کو تین دن سے مقید کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی غصے کی تیزی کی وجہ سے جلدی صلح کرنے کے لیے تیار نہ ہو، بہرحال تین ایام سے زیادہ ناراضگی کی کوئی گنجائش نہیں۔
حدیث نمبر: 9782
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ)) قَالَ مَعْمَرٌ وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ ((وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہیل کے علاوہ باقی راویوں کے الفاظ یہ ہیں: ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، ما سوائے باہم بغض و عداوت رکھنے والے دو افراد کے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: ان دو کو رہنے دو، جب تک یہ صلح نہ کرلیں۔
وضاحت:
فوائد: … باہمی بغض و عداوت اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خصوصی سلسلہ رک جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9783
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنْ كَانَ تَصَادُرًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا فَسَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ فَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد راتوں تک چھوڑے رکھے، اگر وہ تین سے تجاوز کر جائیں تو جب تک قطع تعلقی پر اڑے رہیں گے، وہ حق سے منحرف رہیں گے، اور ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا لوٹنا اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا، پس اگر وہ سلام کہتا، لیکن وہ جواب نہیں دیتا اور اس کے سلام کو ردّ کر دیتا ہے، تو فرشتے اس کو جواب دیں گے اور دوسرے کا جواب شیطان دے گا۔ اگر ایسے دو افراد اپنی قطع تعلقی پر ہی مر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جمع نہیں ہوں گے، ایک روایت میں ہے: وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 9784
عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا، وہ اس کا خون بہا دینے کی طرح ہو گا۔
حدیث نمبر: 9785
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض اور حسد نہ رکھو،باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد دنوں تک چھوڑے رکھے، جب وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9786
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ يَذْكُرُ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں کے لیے چھوڑے رکھے، جب دونوں ملتے ہیں، تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔
حدیث نمبر: 9787
عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوَ قَالَ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ وَيَقُولَانِ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهَجْرِ أَنْ لَا يَحِلَّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عوف بن حارث، جو کہ سیدہ عائشہ کا اخیافی بھتیجا تھا، سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کسی سودے یا عطیے کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! یا تو عائشہ رضی اللہ عنہا با ز آ جائے گی،یا میں اس پر پابندی لگا دوں گا، سیدہ نے پوچھا: کیا واقعی اس نےیہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گی، پھر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد ِ یغوث رضی اللہ عنہما سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے حق میں سیدہ سے سفارش کریں،یہ دونوں آدمی بنو زہرہ قبیلے کے تھے، … … ، پھر مسور اور عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینا شروع کیے، کہ وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ کلام کرے اور اس سے معذرت قبول کرے اور انھوں نے سیدہ کو یہ بات بھی کہی تھی کہ تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطع تعلقی سے روکا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ عرصے تک قطعی تعلقی کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نذر پوری نہ کرنے پر چالیس گردنیں آزاد کی تھیں۔
حدیث نمبر: 9788
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أَبْغَضُ الرِّجَالِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو سخت جھگڑالو ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ مُحِقًّا۔ (ابوداود) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا: ۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ مُحِقًّا۔ (ابوداود) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا: ۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9789
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مُغَالَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا مِنْ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا عِنْدَ مَوْطِنٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنْ امْرِئٍ يَنْصُرُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو طلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو اس مقام پر ذلیل کرتا ہے، جہاں اس کی حرمت پامال ہو جاتی ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس مقام پر ذلیل کرتاہے، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتاہے، جو آدمی ایسے مقام پر اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، جہاں اس کی عزت کم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی اس مقام پر مدد کرے گا، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔
حدیث نمبر: 9790
عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً وَقَالَ مَرَّةً أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنِ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبت یا اس کی توہین یا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ابن اثیر نے النھایۃ میں پہلے دو جملوں کا مفہوم یہ بیان کیا: ایک آدمی کسی کا دوست بنتا ہے، پھر وہ اس کے دشمن کے پاس جا کر اسی دوست پر عیب جوئی کرتا ہے، تاکہ وہ اس بنا پر اس کو کوئی انعام وغیرہ دے کر دنیوی فائدہ پہنچائے۔ جو آدمی کسی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی مال و منال اور جاہ و حشمت والے لوگوںمیں کوئی مقام بنا کر تقوی و صلاحیت کا اظہار کرے، تاکہ اسے بھی مال مل جائے اور اس کا مرتبہ بھی بلند ہو۔
حدیث نمبر: 9791
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۷۱۰)
حدیث نمبر: 9792
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ثُمَّ قَالَ إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغَمِّدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رضی اللہ عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کی حفاظت کے لیےیہ حکم دیا جا رہا ہے، تاکہ نادانستہ طور پر بھی تلوار کسی کو لگ نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9793
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى نَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ فَضَحِكَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا يُضْحِكُكُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبْلَ هَذَا فَفَزِعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَأْخُذَنَّ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِیہِ فَلْیَرُدَّہَا۔)) … کوئی آدمی ہر گز اپنے بھائی کا سامان نہ اٹھائے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ حقیقت میں سچے طور پر، جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی بھی لی ہے، تو وہ اسے واپس کر دے۔ (ابوداود: ۵۰۰۳، ترمذی: ۲۱۶۰)
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔