حدیث نمبر: 9777
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعْرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے والی امتوں کی بیماری تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہے، یعنی حسد اور بغض، یہ بیماری مونڈ دینے والی ہے، دین کو، سر کو نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے، آپس میں سلام کو عام کرو۔
وضاحت:
فوائد: … کسی شخص کا دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور یہ تمنا کرنا کہ اس کی نعمت و خوشحالی ختم ہو جائے اور وہ اسے مل جائے حسد کہلاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے حسد سے منع فرمایا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدََ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔)) … حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 9778
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بھاؤ چڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو۔
حدیث نمبر: 9779
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ)) فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ الْمَرَّةِ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِيَ الثَّلَاثَ فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلَاثُ لَيَالٍ وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ((يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ)) فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا وَلَا أَحْسُدُ عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے۔ پس ایک انصاری آدمی آیا، وضو کی وجہ سے اس کی داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنے جوتے لٹکائے ہوئے تھے، اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی اور وہی آدمی اسی پہلے والی کیفیت کے ساتھ آیا، جب تیسرا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرما دی کہ تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے ۔ اور (اللہ کا کرنا کہ) وہی بندہ اپنی سابقہ حالت کے ساتھ آ گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اس آدمی کے پیچھے چل پڑے اور اس سے کہا: میرا ابو جان سے جھگڑا ہو گیا ہے اور میں نے ان کے پاس تین دن نہ جانے کی قسم اٹھا لی ہے، اگر تم مجھے اپنے پاس جگہ دے دو، یہاں تک کہ یہ مدت پوری ہو جائے، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، تشریف لائیے۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس نے اس آدمی کے ساتھ تین راتیں گزاریں، وہ رات کو بالکل قیام نہیں کرتا تھا، البتہ جب بھی وہ جاگتا اور اپنے بستر پر پہلو بدلتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اور تکبیرات پڑھتا، یہاں تک کہ نمازِ فجر کے لیے اٹھتا، علاوہ ازیں اس کا یہ وصف بھی تھا کہ وہ صرف خیر و بھلائی والی بات کرتا تھا، جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر سمجھوں، تو میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرے اور میرے ابو جان کے مابین نہ کوئی غصے والی بات ہوئی اور نہ قطع تعلقی، تیرے پاس میرے ٹھہرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین بار یہ فرماتے ہوئے سنا: ابھی ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اور تین بار تو ہی آیا، پس میں نے ارادہ کیا کہ تیرا عمل دیکھنے کے لیے تیرے گھر میں رہوں اور پھر میں بھی تیرے عمل کی اقتدا کروں، لیکن میں نے تجھے دیکھا کہ تو تو زیادہ عمل ہی نہیں کرتا، اب یہ بتلا کہ تیرے اندر وہ کون سی صفت ہے کہ جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث بیان کی (اور اس کا مصداق بنا)؟ اس نے کہا: میرا عمل تو وہی ہے جو تو نے دیکھ لیا ہے، پھر جب میں جانے لگا تو اس نے مجھے دوبارہ بلایا اور کہا: میرا عمل تو وہی ہے، جو تو نے دیکھ لیا ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے نفس میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی دھوکہ نہیں ہے اور جس مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے جو خیر عطا کی ہے، میں اس پر اس سے حسد نہیں کرتا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بس یہی چیز ہے، جس نے تجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے اور یہ وہ عمل ہے کہ جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔