کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9766
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو اس طرح برانگیختہ کیا کہ انھوں محرمات کو حلال سمجھ لیا، خون بہائے اور قطع رحمی کی۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔
کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔
مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ہر انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9766
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن حبان: 5177، والحاكم: 1/ 12 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9565»
حدیث نمبر: 9767
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اَلْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9767
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2578 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14515»
حدیث نمبر: 9768
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّهُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9768
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2447، ومسلم: 2579 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5662»
حدیث نمبر: 9769
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ الشِّرْكِ) أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ اس کو حقیر سمجھتا ہے، تقوییہاں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، آدمی کو یہی شرّ (یا شرک) کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے ہر مسلمان پر حرام ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … بیع نجش: وہ بیع ہوتی ہے، جس میں لوگ بڑھ چڑھ کر بولی لگاتے ہیں اور اشیاء کی قدرو قیمت بتانے میں مبالغہ اور فریب سے کام لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9769
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7713»
حدیث نمبر: 9770
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ مِنْ قَوْلِهِ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ الْخَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … پھر مذکورہ حدیث کے الفاظ اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ سے لے کر آخر تک بیان کیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9770
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/183 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16115»
حدیث نمبر: 9771
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ لَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال یا عزت پر ظلم کر رکھا ہو تو وہ اس کے پاس جا کر تصفیہ کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آجائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئیں دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیےرشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔ یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9613»
حدیث نمبر: 9772
عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ ((لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں سے محبت کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور عصبیت سے بچے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 5119، وابن ماجه: 3949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17114»
حدیث نمبر: 9773
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ عَشِيرَتَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ مَثَلُ الْبَعِيرِ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُمَدُّ بِذَنَبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے رشتہ داروں کا ناحق چیز پر تعاون کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے، جس کو کنویں میں گرا دیا جائے اور پھر اس کو اس کی دم سے کھینچا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ وہ آدمی ایسے اونٹ کی طرح ہلاک ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه، وضعيف عند من يقول: انه لم يسمع منه الااليسير، فقد مات ابوه وعمره ست سنوات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3726»
حدیث نمبر: 9774
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ابْنَ آدَمَ اعْمَلْ كَأَنَّكَ تَرَى وَعُدَّ نَفْسَكَ مَعَ الْمَوْتَى وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! تو عمل کر، گویا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں کے ساتھ شمار کر اور مظلوم کی بد دعا سے بچ۔
وضاحت:
فوائد: … اگر اس حدیث پر عمل کیا جائے تو آخرت کی تیاری فکر مندی سے ہو سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث قابل للتحسين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8503»
حدیث نمبر: 9775
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے، اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مظلوم کی بد دعا سے بچنے کے لیے عام اور مطلق حکم دیئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9775
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي معشر، أخرجه الطيالسي: 2330، وابن ابي شيبة: 10/ 275 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8781»
حدیث نمبر: 9776
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تین افراد کی دعا ردّ نہیں جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا تو بادلوں پر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده دون قوله: يوم القيمة ، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي مدلة، أخرجه ابن ماجه: 1752، والترمذي: 3598 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9741»