کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9754
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9754
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1736 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4201»
حدیث نمبر: 9755
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغَادِرُ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9755
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6177، ومسلم: 1735 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4648»
حدیث نمبر: 9756
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہت بڑی رسوائی ہے کہ حشر کے میدان میں اللہ کی مخلوق کے سامنے دبر کے ساتھ ایک جھنڈا گڑھا ہوا ہو، جو اس کی خیانت، دھوکے اور عہد شکنی پر دلالت کرے۔ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9756
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5378»
حدیث نمبر: 9757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھی یہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام میں عہد و پیمان کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے، اگرچہ وہ غیر مسلموں سے کیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9757
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1371 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9162»
حدیث نمبر: 9758
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، یہ قبیح عمل منافق کی صفت ہے، ایمان کے ساتھ خیانت کا کوئی سمجھوتہ نہیں، آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا وہ قیامت والے دن اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے گا۔ وہ کیسا منظر ہو گا کہ آدمی کی پیٹھ پر اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ لدے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنی طبعی آواز نکال رہے ہوں گے۔
آجکل حکومتی عہدیدار بالعموم اور سیاسی لیڈر بالخصوص قومی خزانوں کو لوٹنا اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں اور وہ سرے سے حلت و حرمت میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، زکوۃ کمیٹیوں کی رقم حقداروںمیں نہیں، بلکہ قرابتداروں یایاروں میں بانٹی جاتی ہیں اور عوام الناس کی اکثریت کو جہاں اور جس انداز میں موقع ملتا ہے، وہ شکار ضائع نہیں جانے دیتے، وہ سرکاری اداروں کا مال چوری کرنے کی صورت میں ہو یا سرکاری جگہ پر قبضہ جمانے کی صورت میں۔ یہ سب خیانتیں ہیں۔ جن کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9758
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 11، وابويعلي: 2863، والبزار: 100، والبيھقي: 6/288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12410»
حدیث نمبر: 9759
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَشُدُّ عُقْدَةً وَلَا يَحُلُّ حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مسلم قوم اور کسی دوسری قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو نہ وہ اس کو مزید لمبا کر کے مضبوط کرے اور نہ اس کو توڑے، یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہو جائے یا دونوں برابر برابر کا توڑ دیں۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشاھده، أخرجه ابوداود: 2759، والترمذي: 1580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19656»
حدیث نمبر: 9760
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بِهِ فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهُ إِلَى غَيْرِ مَنَعَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے کوئی شرط لگائی، جبکہ اس کا اس کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے بھائی کو ایسی ہمسایہ (قوم) کے سپرد کر رہا ہے، جن کے پاس (دشمن سے بچنے کی) کوئی قوت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9760
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، وقد تفرد بھذا الحديث، وليس بذالك القوي، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 96 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23831»
حدیث نمبر: 9761
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا قَالَ وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ قَالَ أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ قَالَ لَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تیرے لیے علی ( رضی اللہ عنہ ) کو قتل کر دوں؟ انھوں نے کہا: تو اس کو کیسے قتل کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ تو لشکر ہیں؟ اس نے کہا: میں بظاہر اس کے ساتھ مل جاؤں گا اور پھر اس کو غافل پا کر قتل کر دوں گا، انھوں نے کہا: نہیں، ایسے نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے، مؤمن امان دینے کے بعد قتل نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 123، وعبد الرزاق: 9676 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1426»
حدیث نمبر: 9762
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 723 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16957»
حدیث نمبر: 9763
عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ فَكَرِهْتُ دَمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابورفاعہ بجلی کہتے ہیں: میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں گیا، میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا: اس سے پہلے جبریل کھڑا نہیں ہوا، مگر میرے پاس سے، یہ بات سن کر میں نے اس کی گردن اڑا دینے کا ارادہ کیا، لیکن مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تجھے اپنے خون پر امین بنائے تو تو نے اس کو قتل نہیں کرنا۔ مختار نے مجھے بھی اپنے خون پر امین بنایا تھا، اس میں نے اس کے قتل مکروہ سمجھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9763
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة ولجھالة ابي عكاشة الھمداني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27749»
حدیث نمبر: 9764
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً وَقَالَ لَوْ لَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رفاعہ قتبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا،اس نے میرے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اگر میرا بھائی جبریل اس سے کھڑا نہ ہوا ہوتا تو میں نے اس کو تیرے لیے رکھنا تھا، یہ بات سن کر میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی مؤمن کو اپنے خون پر امین بنائے اور پھر وہ اس کو قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي: 1285، والبزار: 2309، وابن حبان: 5982 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24102»
حدیث نمبر: 9765
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) میں مختارکا پہرہ دیتا تھا، جب میں نے پہچان لیا کہ یہ جھوٹا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اپنی تلوار سونتوں اور اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اپنی جان پر امن والا بنایا، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا تو قیامت والے دن اس کو دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9765
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22294»