کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
حدیث نمبر: 9741
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَ نَاسًا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ جَاءَ هَؤُلَاءِ فَقَالُوا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْأَمِيرِ مَرْوَانَ قَالَ وَكُلُّ حَقٍّ رَأَيْتُمُوهُ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأَعَنْتُمْ عَلَيْهِ وَكُلُّ مُنْكَرٍ رَأَيْتُمُوهُ أَنْكَرْتُمُوهُ وَرَدَدْتُمُوهُ عَلَيْهِ قَالُوا لَا وَاللَّهِ بَلْ يَقُولُ مَا يُنْكَرُ فَنَقُولُ قَدْ أَصَبْتَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قُلْنَا قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَظْلَمَهُ وَأَفْجَرَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا لِمَنْ كَانَ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَهَذِهِ تَتْبَعُ أَمْ هَذِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گی یا اُس کے پیچھے۔
وضاحت:
فوائد: … منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی توہین ہے کہ ان کو مؤنث سے تشبیہ دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں اور کبھی کافروں کی، کبھی مسلمانوں کا ہم نوا بننے کا دعوی کرتے ہیں اور کبھی کافروں کے ساتھ دوستی دعوے کر رہے ہوتے ہیں، لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی، حیران و پریشان ہی رہتے ہیں، نہ مسلمان ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور نہ کافر۔
حدیث نمبر: 9743
عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ بِمَكَّةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَعَهُ فَقَالَ أَبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ مِنَ الْغَنَمِ إِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا وَإِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ كَذَبْتَ فَأَثْنَى الْقَوْمُ عَلَى أَبِي خَيْرًا أَوْ مَعْرُوفًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا أَظُنُّ صَاحِبَكُمْ إِلَّا كَمَا تَقُولُونَ وَلَكِنِّي شَاهِدٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ كَالشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ فَقَالَ هُوَ سَوَاءٌ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید کہتے ہیں: میں ایک دن مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہو گی، جو بکریوں کے دو باڑوں کے درمیان ہو، اگر اس باڑے میں جائے تو وہ بکریاں اس کو مارتی ہیں اور اگر اُس میں جائے تو اس والی مارتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، لیکن لوگوں نے میرے باپ کی تعریف کی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھی کو خیر والا سمجھتا ہوں، جیسے تم سمجھ رہے ہو، لیکن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ کے الفاظ فرمائے تھے۔ انھوں نے کہا: معنی تو ایک ہی ہے، لیکن سیدنا ابن عمر نے کہا: میں نے تو یہی الفاظ سنے تھے۔
حدیث نمبر: 9744
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … غیر محتاط گفتگو سے بچنا چاہیے، بعض لوگ عام گفتگو میں انتہائی فحش گالیاں نکالتے ہیں، بعض شریعت کے ساتھ مذاق تک کر جاتے ہیں، بعض ایک دوسرے کو لعنتی اور کافر کہہ دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9745
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ مُنَافِقِينَ فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ ثُمَّ قَالَ قُمْ يَا فُلَانُ قُمْ يَا فُلَانُ حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ قَالَ فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ قَالَ مَا لَكَ قَالَ فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک تم میں منافق موجود ہیں، میں جس جس کا نام لیتا جاؤں، وہ کھڑا ہو تا جائے، او فلاں! تو کھڑا ہو جا، او فلاں! تو بھی کھڑا ہو جا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھتیس مردوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: تم میں منافق ہیں، پس اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ سیدنا عمر ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کانام لیا گیا تھا، اس نے کپڑا اوڑھا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو پہچانتے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: دوری ہو تیرے لیے باقی دن۔
حدیث نمبر: 9746
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔
وضاحت:
فوائد: … عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اگر تم منافق کو سید کہو گے تو اس سے اس کی تعظیم لازم آئے گی، حالانکہ وہ عزت و عظمت کا مستحق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی تمہارا سید نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے لیےیہ لقب استعمال کرنا محض جھوٹ اور نفاق ہو گا۔ نیز اس حدیث ِ مبارکہ کا یہ مفہوم بھی درست ہو گا کہ اگر تم کسی منافق کو اپنا سید تسلیم کرو گے، تو تم پر ضروری ہو گا کہ اس کی اطاعت بھی کرو اور اگر تم نے اس کی اطاعت کی تو اپنے رب کو ناراض کر دو گے۔ ابن اثیر نے کہا: منافق کو سید نہ کہا کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو اپنا سید قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم خود اس سے کمتر ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اس مرتبے کو پسند نہیں کرے گا۔ (عون المعبود)
حدیث نمبر: 9747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ) سُخُبٌ بِالنَّهَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9748
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امین بنایا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ عملی نفاق کی علامتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 9749
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے باور کرائے کہ وہ اس کا خیرخواہ اور اس کے حق میں مخلص ہے اور دوسرے کا مخالف، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو وہاں ان کے لیے باوفا ہونے کا تاثر دے۔ یہ بدترین شخص ہے، ایسا شخص جھوٹا ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں ہی اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔
اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
حدیث نمبر: 9750
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ (وَقَالَ يَعْلَى تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ) عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو قیامت کے دن لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا۔ ابن نمیر نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اِن کے پاس اُن کی بات کرتا ہے اور اُن کے پاس اِن کی بات کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9751
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو رخے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ امین بھی ہو۔
حدیث نمبر: 9752
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچے گا، اگرچہ تم لومڑ کے بل میں ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میں منافق بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 9753
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ (وَفِي لَفْظٍ عَلَى أُمَّتِي) كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ خطاب میں جادو کی سی تاثیر پائی جاتی ہے اور بعض لوگ اپنے اندازِ خطابت کے زور پر لوگوں میں اتنی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی ہر بات کو حجت سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں مومن کو دلائل کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کیخصلت ِ بد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُ وْنَ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۴) … اور جب (یہ منافق) ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو ان (مسلمانوں) سے صرف مذاق کرتے ہیں۔
اب جو منافق جتنا زبان آور، چرب لسان، زبان دراز، خوشامدی، زبان کے داؤ پیچ جاننے والا اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے والا ہو گا، وہ اتنا ہی مسلمانوں کے سامنے ان کا وفادار بن کر ان کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے رازدارانہ امور ان کے دشمنوں تک پہنچا دے گا۔
اب جو منافق جتنا زبان آور، چرب لسان، زبان دراز، خوشامدی، زبان کے داؤ پیچ جاننے والا اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے والا ہو گا، وہ اتنا ہی مسلمانوں کے سامنے ان کا وفادار بن کر ان کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے رازدارانہ امور ان کے دشمنوں تک پہنچا دے گا۔