کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9729
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اپنی قوم، نسل اور آباء و اجداد کی بنا پر ناز کرنا، فخر کرنا، فوقیت جتانا، نفیس و فائق سمجھنا، برتری ثابت کرنا اور ذریعۂ امتیاز و اعزاز سمجھنا، اسلام میں اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر نسب کو آگے بڑھایا جائے تو تمام قومیں، قبیلے اور خاندان آدم علیہ السلام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، تعارف کے لیے نسل کا نام لیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں کو اپنی برادریوں سے اچھے مزاج ملتے ہیں، ان کی وجہ سے عزت و حمیت والی اور با مقصد زندگی نصیب ہوتی ہے، ایسے مزاج پر پابند رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرنا چاہیے، اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بعض قبائل اور اشخاص کی تعریف کی ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 9730
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَيَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 9731
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ لَيَكُونَنَّ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 9732
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ قَالُوا بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کاش ہم بھی اپنے تعلقات کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف کو قرار دیتے، ہمارے معاشرے میں سرمائے کی بھی اہمیت ہے، رنگت کی بھی قدر ہے، برادری ازم بھی معیار ہے، رشتہ داری بھی قابل توجہ ہے، اگر نہیں ہے تو تقوی اور پرہیزگاری کی اہمیت نہیں ہے، یعنی جو چیز اسلام میں سب سے اہم ہے، وہ ہمارے نزدیک اہم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9733
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ فَأَنْتَ فَوْقَهُمُ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، ( نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میں ہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میں ایک ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث اور اس کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
حدیث نمبر: 9734
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا پورا متن یوں ہے: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنْتَسَبَ رَجُلَان عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَۃً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ الْاِسْلَامِ۔ قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنْ قُلْ لِھٰذَیْنِ الْمُنْتَسِبَیْنِ: اَمَّا اَنْتَ اَیُّھَا الْمُنْتَمِيْ اَوِ الْمُنْتَسِبُ اِلٰی تِسْعَۃٍ فِيْ النَّارِ، فَاَنْتَ عَاشِرُھُمْ، وَاَمَّا اَنْتَ یَا ھٰذَا الْمُنْتَسِبُ اِلٰی اثْنَیْنِ فِيْ الْجَنَّۃِ، فَاَنْتَ ثَالِثُھُمَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں(نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں(نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
حدیث نمبر: 9735
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں والے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوں کیتدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
حدیث نمبر: 9736
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ انْظُرْ فَإِنَّكَ لَيْسَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ إِلَّا أَنْ تَفْضُلَهُ بِتَقْوَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 9737
عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعَضَّهُ وَلَمْ يَكْنِهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي فِي أَنْفُسِكُمْ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِي بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: خلیفۂ رسول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور کہا: جو بندہ اپنے قبائل پر فخر کرے، تو اسے کہہ دیا کرو کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔(ابن ابی شیبہ)۔ (صحیحہ: ۲۶۹)
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
حدیث نمبر: 9738
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ بِهَنِ أَبِيهِ فَقَالُوا مَا كُنْتَ فَحَّاشًا قَالَ إِنَّا أُمِرْنَا بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 9739
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا بَخِيلًا جَبَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو ، بدکلام ، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ابن جریر کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلنَّاسُ لِآدَمَ وَحَوَّائَ، کَطَفِّ الصَّاعِ لَمْ یَمْلَؤُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْأَلُکُمْ عَنْ اَحْسَابِکُمْ، وَلَا عَنْ اَنْسَابِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔)) … آدم علیہ السلام اور حوا رحمتہ اللہ علیہ سے تمام لوگ پیدا ہوئے۔ لوگ اس صاع کی طرح ہیں، جس کو بھرا نہیں گیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے حسب و نسب کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہو گا، جو سب سے زیادہ متقی ہو گا۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی، بدکلامی، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی، بدکلامی، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 9740
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ فَذَكَرُوا الْجُدُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُكُمْ جَدُّ بَنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فِي رَوْضَةٍ وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا قَالَ فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَأَيْنَ جَدُّ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ لَوْ سَكَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔
وضاحت:
فوائد: … علقمہ بن علاثہ نے بنو عامر کی طرف، عیینہ بن بدر نے غطفان کی طرف اور اقرع بن حابس نے بنو تمیم کی طرف نسبت کی تھی۔
ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔
باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔
اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔
ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔
باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔
اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔