حدیث نمبر: 9717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ)) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔
حدیث نمبر: 9718
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، … ۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 9719
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ)) فَقَالَ قَائِلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِحَبْلَيْ سَوْطِي وَشِسْعِ نَعْلِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفَهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ)) يَعْنِي بِالْحَبْلَيْنِ سَيْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔
حدیث نمبر: 9720
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنْ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَذَكَرَ فَضْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَذَكَرَ فَضْلَهَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ)) قَالَ قُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ قَالَ ((لَا)) قَالَ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا قَالَ ((لَا)) قَالَ الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا قَالَ ((لَا)) قَالَ أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ قَالَ ((لَا)) قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ ((سَفْهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
حدیث نمبر: 9721
عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ الْقَوْمُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمامتوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔
حدیث نمبر: 9722
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْمَرْوَةِ فَتَحَدَّثَا ثُمَّ مَضَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَبَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَبْكِي فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ هَذَا يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔
حدیث نمبر: 9723
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ كُنْتُ لَا أُحْجَبُ عَنِ النَّجْوَى وَلَا عَنْ كَذَا وَلَا عَنْ كَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَنَسِيَ وَاحِدَةً وَنَسِيتُ أَنَا وَاحِدَةً قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قُسِمَ لِي مِنَ الْجَمَالِ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهَا أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيَ قَالَ ((لَا لَيْسَ ذَلِكَ الْبَغْيَ لَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ بَطَرَ قَالَ أَوْ قَالَ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔
حدیث نمبر: 9724
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ خوش پوشاکی، حسن و جمال، طاقت و توانائی، قدو قامت یا دوسری صلاحیتوں کی بنا پر خود پسندی، عجب پسندی، اعجابِ نفس، اکڑنا، اترا کر چلنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور تکبر میں مبتلا ہونے سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے، بلکہ ان احسانات سے محروم انسانیت کو مدّنظر رکھ کر ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری دنیوی ضروریات باندازِ احسن پوری کرنے کے لیے ہم پر اپنے انعامات کی بارش کر دے، لیکن ہمارے دل و دماغ کی کج روی کی وجہ وہ ہمارے لیے حفاظت ِ نفس کی بجائے وبالِ جان اور رحمت کی بجائے زحمت بن جائیں۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
حدیث نمبر: 9725
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَالْجَعْظَرِيُّ وَالْعُتُلُّ وَالزَّنِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔
حدیث نمبر: 9726
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ النَّاسِ يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصِّغَارِ حَتَّى يَدْخُلُوا سِجْنًا فِي جَهَنَّمَ يُقَالُ لَهُ بُولَسُ فَتَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ عِصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 9727
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ إِذْ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ وَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا أَوْ يَتَجَرْجَرُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک پوشاک میں اترا کر چل رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں زمین کو حکم دیا، زمین نے اس کو پکڑ لیا، وہ قیامت کے دن تک اسی میں دھنستا جائے گا۔
حدیث نمبر: 9728
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((بَيْنَمَا رَجُلٌ شَابٌّ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ يَتَبَخْتَرُ فِيهَا مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ بَلَعَتْهُ الْأَرْضُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک نوجوان ایک پوشاک پہنے ہوئے اترا کر چل رہا تھا اور اس نے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکا رکھا تھا، اتنے میں زمین اس کو نگل گئی اور وہ روزِقیامت تک اس میں دھنستا چلا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … تکبر اور بڑائی، ان کے مفہوم کا ادراک کرنا خواص اور عوام دونوں کے لیے پیچیدہ ہو گیا ہے، ہم ذیل میں مختلف احادیث کی روشنی میں کچھ اقتباسات پیش کریں گے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے کی کوشش کریں کہ وہ تکبر کون سا ہے، جس کی مذمت کی گئی ہے اور وہ حسن و جمال کون سا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے: بحث کے شروع میں قارئین سے گزارش ہے کہ وہ درج ذیل امور پر غور کریں اور اپنا جائزہ لیں اور سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو بھی مد نظر رکھیں۔
۱۔ اکثر مرد حضرات اپنی شلوار اور پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے میں عار سمجھتے ہیں، کیوں؟ جبکہ مرد کے لیے ٹخنوں کو شلوار اور تہبند میں چھپانا حرام ہے۔
۲۔ کئی لوگ داڑھی بڑھانے کو … … سمجھتے ہیں اور شیو کو حسن کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ اس بات پر امت متفق ہے کہ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
۳۔ بعض لوگ کم مرتبہ افراد اور فقراء و مساکین کو ملنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار سمجھتے ہیں،یا کم از کم یہ بات تو یقینی ہے کہ کم مرتبہ لوگوں کو اچھے انداز میں نہیں ملا جاتا۔
۴۔ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض سنتوں پر عمل کرنے میں عار سمجھتے ہیں، مثلا کھانے کے آداب میں برتن کو صاف کرنا، گری ہوئی چیز کو اٹھا کر کھا لینا، جبکہ سنت ِ مطہرہ پر عمل کرنا سب سے بڑا ناز ہے۔
۵۔ بعض لوگ دوسرے افراد کے سامنے کوئی ادنی قسم کا کام کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، مثلا پانی بھرنا، آٹا اٹھانا، صفائی کرنا، وغیرہ۔
۶۔ اگر عام افراد کے سامنے بعض لوگوں کی واضح نافرمانی کی وجہ سے ان کو تبلیغ کر دی جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شان متاثر ہوئی ہے اور ان کے سٹیٹس کا خیال نہیں رکھا گیا۔
۷۔ بعض سرمایہ دار سادہ لباس پہننے میں عار محسوس کرتے ہیں۔
ان گزارشات پر غور کرنے کے بعد درج ذیل اقتباس کا مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر (۱۰۳۸۵)اور اس کے فوائد کو غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ قارون عذابِ الٰہی میں گرفتار کیوں ہوا۔
قاسم بن محمدl سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایندھن کے کام آنے والی لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار سے گزرے،کسی نے (ان پر اعتراض کرتے ہوئے ان کو) کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے پرواہ نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس کے ذریعے (اپنے نفس) سے تکبر کو دور کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) … ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا۔ (حاکم: ۳/۴۱۶، صحیحہ: ۳۲۵۷)
کسی شخص کا مال و دولت، دولت و ثروت، حسن و جمال، جاہ و منصب، حکومت و سلطنت، غلبہ و اقتدار، علم و فضل، حسب و نسب، سرداری و سربراہییا احترام و اکرام کی بنا پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھنا اور حق بات ماننے سے ہٹ دھری کا ارتکاب کرنا اور ان دنیوی صفات کی بنا پر بعض سنتوں پر عمل نہ کرنا تکبر کہلاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْکِبْرَیَائُ رِدَائِیْ وَالْعِزَّۃُ إزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِنْھُمَا أُلْقِیْہِ فِی النَّارِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تکبر(اور بڑائی) میری چادر ہے اور عزت (اورغلبہ) میراازار ہے، جس نے ان دونوں (اوصاف) میں سے کوئی ایک مجھ سے کھینچنا چاہا، میں اُس کوآگ میں پھینک دوں گا۔ (صحیح مسلم)
غلبہ و اقتدار، تکبر و بڑائی اور عظمت و کبریائی جیسی صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ جس فرد کو جو قوت یا عظمت یا مقام و مرتبہ حاصل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اس لئے ایسے آدمی کو چاہئے کہ بطورِ شکر الٰہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اپنی عظمت و کبریائی کے ڈنکے بجانا چھوڑ دے اور شریعت سے اعراض کرنا ترک کر دے۔ ورنہ اس کا انجام آتش ِ دوزخ ہو گا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو اپنی قوت و طاقت، حسب ونسب، عہدہ و منصب اور مال و منال پر نازاں رہتے ہیں اور لوگوں کے سامنے متکبرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۔)) … (اچھے کپڑے زیب تن کرنا اور اچھے جوتے پہننا تو قابل تعریف چیز ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہے اور حسن و جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم)
اس حدیث میں بیان کئے گئے تکبر کے مفہوم کو سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت سے سمجھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ((کُلْ بِیَمِیْنِکَ۔)) یعنی: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا: اس کی میرے اندر طاقت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اگر تجھے طاقت نہیں تو) تجھے اس کی استطاعت نہ ہونے پائے۔ دراصل اس کو صرف تکبر نے آپ کی بات ماننے سے روکا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا۔ (مسلم) یہ ہے تکبر اور اس کا وبال کہ پوری زندگی کے لئے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا نصیب نہ ہوا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور ان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور عاجزی و فروتنی کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کے بندوں اور اس کی مخلوق کا احترام کریں۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے غرور، گھمنڈ اور شیخی کے جذبات کو مسخ کرنے کے لئے بہترین کلیہ استعمال کیا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگ کو رسی باندھ کر اس کا دودھ دوہا۔ (الصحیحۃ: ۲۲۱۸، أخرجہ البخاری فی الأدب المفرد:۵۵۰، والدیلمی:۴/۳۳)
اس حدیث کا مطلب یہ ہو ا کہ جو آدمی ایسے کام کرنے سے عار محسوس کرتا ہے، اسے اپنے ضمیر میں تکبر کا خطرہ محسوس کرنا چاہئے۔
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَرَکَ اَنْ یَّلْبَسَ صَالِحَ الثِّیَابِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، دَعَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ عَلیٰ رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ حَتّٰییُخَیِّرَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِی حُلَلِ الْاِیْمَانِ اَیَّتَھُنَّ شَائَ۔)) … جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔ (مسند احمد: ۱۵۷۰۴)
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی اور گہرے تعلق کی ضرورت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کنگھی کی بھی ہے اور بالوں کو اچھی طرح سنوارنے کا حکم بھی دیا ہے، لیکنیہ بھی حکم دے دیا کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی نہ کرے، یہی معاملہ لباس کا ہے۔
مقصودِ شریعتیہ ہے کہ مسلمان نہ تو ایسا ہو کہ ہفتوں تک نہانے اوربالوں کو سنوارنے کا اہتمام نہ کرے اور بالآخر اپنی حیثیت کو نہ سمجھنے والا قابل نفرت شخص بن جائے اور نہ ایسا ہو کہ ہر روز اور ہروقت اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ پر توجہ مرکوز رکھے، کیونکہ ہر وقت کی خوشحالی، آسودگی اور خوش عیشی بھی انسان کے مزاج میں فساد پیدا کر دیتی ہے اور وہ غرور و تکبر میںمبتلا ہو جاتا ہے اور کم صفائی رکھنے والے یا سادہ زندگی گزارنے والوں سے نفرت کرنے لگتا ہے یا کم از کم یہ ہوتا ہے کہ سادگی کی اہمیت اور فوائد کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ فِی الدُّنْیَا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیںگے۔(ابوداود: ۴۰۲۹،۴۰۳۰، ابن ماجہ: ۳۶۰۷)
شہرت والے لباس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کییہ خواہش ہو کہ اس کا لباس رنگ، ڈیزائن اور کڑھائی وغیرہ کے اعتبار سے امتیازی ہو تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں، پھر وہ عجب اور خود پسندی میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے شخص کا انجام دیکھیں کہ وہ اس لباس کے ذریعے شہرت چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ایسا لباس پہنائے گا جس سے اس کی ذلت لازم آئے گی۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز وہ ہے، جو زیادہ تقوی اور پرہیز گاری والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰیکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔} … اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (سورۂ حجرات: ۱۳)
۱۔ اکثر مرد حضرات اپنی شلوار اور پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے میں عار سمجھتے ہیں، کیوں؟ جبکہ مرد کے لیے ٹخنوں کو شلوار اور تہبند میں چھپانا حرام ہے۔
۲۔ کئی لوگ داڑھی بڑھانے کو … … سمجھتے ہیں اور شیو کو حسن کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ اس بات پر امت متفق ہے کہ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
۳۔ بعض لوگ کم مرتبہ افراد اور فقراء و مساکین کو ملنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار سمجھتے ہیں،یا کم از کم یہ بات تو یقینی ہے کہ کم مرتبہ لوگوں کو اچھے انداز میں نہیں ملا جاتا۔
۴۔ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض سنتوں پر عمل کرنے میں عار سمجھتے ہیں، مثلا کھانے کے آداب میں برتن کو صاف کرنا، گری ہوئی چیز کو اٹھا کر کھا لینا، جبکہ سنت ِ مطہرہ پر عمل کرنا سب سے بڑا ناز ہے۔
۵۔ بعض لوگ دوسرے افراد کے سامنے کوئی ادنی قسم کا کام کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، مثلا پانی بھرنا، آٹا اٹھانا، صفائی کرنا، وغیرہ۔
۶۔ اگر عام افراد کے سامنے بعض لوگوں کی واضح نافرمانی کی وجہ سے ان کو تبلیغ کر دی جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شان متاثر ہوئی ہے اور ان کے سٹیٹس کا خیال نہیں رکھا گیا۔
۷۔ بعض سرمایہ دار سادہ لباس پہننے میں عار محسوس کرتے ہیں۔
ان گزارشات پر غور کرنے کے بعد درج ذیل اقتباس کا مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر (۱۰۳۸۵)اور اس کے فوائد کو غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ قارون عذابِ الٰہی میں گرفتار کیوں ہوا۔
قاسم بن محمدl سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایندھن کے کام آنے والی لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار سے گزرے،کسی نے (ان پر اعتراض کرتے ہوئے ان کو) کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے پرواہ نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس کے ذریعے (اپنے نفس) سے تکبر کو دور کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) … ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا۔ (حاکم: ۳/۴۱۶، صحیحہ: ۳۲۵۷)
کسی شخص کا مال و دولت، دولت و ثروت، حسن و جمال، جاہ و منصب، حکومت و سلطنت، غلبہ و اقتدار، علم و فضل، حسب و نسب، سرداری و سربراہییا احترام و اکرام کی بنا پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھنا اور حق بات ماننے سے ہٹ دھری کا ارتکاب کرنا اور ان دنیوی صفات کی بنا پر بعض سنتوں پر عمل نہ کرنا تکبر کہلاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْکِبْرَیَائُ رِدَائِیْ وَالْعِزَّۃُ إزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِنْھُمَا أُلْقِیْہِ فِی النَّارِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تکبر(اور بڑائی) میری چادر ہے اور عزت (اورغلبہ) میراازار ہے، جس نے ان دونوں (اوصاف) میں سے کوئی ایک مجھ سے کھینچنا چاہا، میں اُس کوآگ میں پھینک دوں گا۔ (صحیح مسلم)
غلبہ و اقتدار، تکبر و بڑائی اور عظمت و کبریائی جیسی صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ جس فرد کو جو قوت یا عظمت یا مقام و مرتبہ حاصل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اس لئے ایسے آدمی کو چاہئے کہ بطورِ شکر الٰہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اپنی عظمت و کبریائی کے ڈنکے بجانا چھوڑ دے اور شریعت سے اعراض کرنا ترک کر دے۔ ورنہ اس کا انجام آتش ِ دوزخ ہو گا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو اپنی قوت و طاقت، حسب ونسب، عہدہ و منصب اور مال و منال پر نازاں رہتے ہیں اور لوگوں کے سامنے متکبرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۔)) … (اچھے کپڑے زیب تن کرنا اور اچھے جوتے پہننا تو قابل تعریف چیز ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہے اور حسن و جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم)
اس حدیث میں بیان کئے گئے تکبر کے مفہوم کو سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت سے سمجھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ((کُلْ بِیَمِیْنِکَ۔)) یعنی: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا: اس کی میرے اندر طاقت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اگر تجھے طاقت نہیں تو) تجھے اس کی استطاعت نہ ہونے پائے۔ دراصل اس کو صرف تکبر نے آپ کی بات ماننے سے روکا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا۔ (مسلم) یہ ہے تکبر اور اس کا وبال کہ پوری زندگی کے لئے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا نصیب نہ ہوا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور ان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور عاجزی و فروتنی کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کے بندوں اور اس کی مخلوق کا احترام کریں۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے غرور، گھمنڈ اور شیخی کے جذبات کو مسخ کرنے کے لئے بہترین کلیہ استعمال کیا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگ کو رسی باندھ کر اس کا دودھ دوہا۔ (الصحیحۃ: ۲۲۱۸، أخرجہ البخاری فی الأدب المفرد:۵۵۰، والدیلمی:۴/۳۳)
اس حدیث کا مطلب یہ ہو ا کہ جو آدمی ایسے کام کرنے سے عار محسوس کرتا ہے، اسے اپنے ضمیر میں تکبر کا خطرہ محسوس کرنا چاہئے۔
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَرَکَ اَنْ یَّلْبَسَ صَالِحَ الثِّیَابِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، دَعَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ عَلیٰ رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ حَتّٰییُخَیِّرَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِی حُلَلِ الْاِیْمَانِ اَیَّتَھُنَّ شَائَ۔)) … جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔ (مسند احمد: ۱۵۷۰۴)
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی اور گہرے تعلق کی ضرورت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کنگھی کی بھی ہے اور بالوں کو اچھی طرح سنوارنے کا حکم بھی دیا ہے، لیکنیہ بھی حکم دے دیا کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی نہ کرے، یہی معاملہ لباس کا ہے۔
مقصودِ شریعتیہ ہے کہ مسلمان نہ تو ایسا ہو کہ ہفتوں تک نہانے اوربالوں کو سنوارنے کا اہتمام نہ کرے اور بالآخر اپنی حیثیت کو نہ سمجھنے والا قابل نفرت شخص بن جائے اور نہ ایسا ہو کہ ہر روز اور ہروقت اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ پر توجہ مرکوز رکھے، کیونکہ ہر وقت کی خوشحالی، آسودگی اور خوش عیشی بھی انسان کے مزاج میں فساد پیدا کر دیتی ہے اور وہ غرور و تکبر میںمبتلا ہو جاتا ہے اور کم صفائی رکھنے والے یا سادہ زندگی گزارنے والوں سے نفرت کرنے لگتا ہے یا کم از کم یہ ہوتا ہے کہ سادگی کی اہمیت اور فوائد کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ فِی الدُّنْیَا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیںگے۔(ابوداود: ۴۰۲۹،۴۰۳۰، ابن ماجہ: ۳۶۰۷)
شہرت والے لباس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کییہ خواہش ہو کہ اس کا لباس رنگ، ڈیزائن اور کڑھائی وغیرہ کے اعتبار سے امتیازی ہو تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں، پھر وہ عجب اور خود پسندی میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے شخص کا انجام دیکھیں کہ وہ اس لباس کے ذریعے شہرت چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ایسا لباس پہنائے گا جس سے اس کی ذلت لازم آئے گی۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز وہ ہے، جو زیادہ تقوی اور پرہیز گاری والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰیکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔} … اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (سورۂ حجرات: ۱۳)